خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 414

خلافة على منهاج النبوة ۴۱۴ جلد اول خلیفہ اول کی پردہ پوشی جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں اُس وقت عام طور پر جماعت معاملات کو سمجھ گئی تھی اور احمدیوں نے سمجھ لیا تھا کہ خواجہ صاحب ہمیں کدھر کو لئے جا رہے ہیں اور اکثر حصہ جماعت کا اس بات پر تیار ہو گیا تھا کہ وہ اندرونی یا بیرونی دشمنوں کی کوششوں کا جو ان کو مرکز احمدیت سے ہٹانے کیلئے کی جارہی ہیں مقابلہ کرے۔مگر چونکہ خواجہ صاحب اور ان کے رفقاء نے خلافت کے متعلق یہ رویہ اختیار کر لیا تھا کہ بظاہر اس مسئلہ کی تائید کی جائے۔اس طرح حضرت خلیفہ اسیح کی خدمت میں اکثر حاضر ہو کر ان سے اظہار عقیدت کی جاوے اس لئے جماعت کو ان کے حالات سے پوری طرح آگا ہی نہ حاصل ہو سکی۔ورنہ جس قدر آجکل ان کا اثر ہے وہ بھی نہ رہتا۔حضرت خلیفتہ المسیح کو ان لوگوں نے یقین دلایا تھا کہ لوگ خلافت کے قائل ہیں اور اسی طرح دوسرے مسائل میں بھی جیسا رنگ حضرت خلیفتہ المسیح کا دیکھتے اُسی طرح ہاں میں ہاں ملا دیتے۔جس سے اکثر آپ یہی خیال فرماتے کہ یہ لوگ نہایت خیر خواہ اور راسخ العقیدہ ہیں اور ان کی پچھلی حرکات پر پردہ ڈالتے اور اگر لوگ ان کی کارروائیاں یا دلاتے تو آپ بعض دفعہ ناراض بھی ہوتے اور فرماتے کہ غلطیاں سب انسانوں سے ہوتی ہیں اگر ان سے ہو گئیں تو ان کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو اب یہ بالکل درست ہیں۔مگر حضرت خلیفہ المسیح کی وفات کے ساتھ ہی یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت خلیفہ اسیح کو یہ لوگ دھوکا دیتے تھے اور حضرت خلیفہ المسیح نے اگر ان کی کوئی تعریف کی ہے تو یہ اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔کیونکہ اس سے ان کی تعریف ثابت نہیں ہوتی بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ لوگ آپ کے وقت میں منافقت سے کام کرتے تھے کیونکہ جن باتوں کی نسبت حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ یہ مانتے ہیں ان پر یہ الزام مت لگاؤ کہ یہ ان کو نہیں مانتے آپ کی وفات کے بعد انہوں نے اس سے انکار کر دیا۔یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ بناوٹ بناوٹ ہی ہوتی ہے درمیان میں کبھی کبھی ان لوگوں کی حرکات سے حضرت خلیفہ اسیح سمجھ بھی جاتے تھے کہ یہ لوگ دھوکا دے رہے ہیں اور اس کا اظہار بھی فرماتے تھے مگر پھر ان لوگوں کے معافی مانگ لینے پر خیال فرماتے تھے کہ شاید غلطی