خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 413
خلافة على منهاج النبوة ۴۱۳ جلد اول انجمن کا اعلان ہونا تھا کہ اعتراضات کی بوچھاڑ ہونی شروع ہو گئی اور صاف طور پر ظاہر کیا جانے لگا کہ اس انجمن کا قیام بغرض حصول خلافت ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس انجمن کے ممبروں میں سے ایک خاصی تعداد اس وقت ان لوگوں کے ساتھ ہے اور وہ لوگ گواہی دے سکتے ہیں کہ اس انجمن کا کوئی تعلق تغیرات خلافت کے متعلق نہ تھا۔بلکہ یہ انجمن صرف تبلیغ کا کام کرتی تھی اور ان میں سے بعض نے یعنی ان کے واعظ محمد حسین عرف مرہم عیسی اور ماسٹر فقیر اللہ سپرنٹنڈنٹ دفتر سیکرٹری اشاعت اسلام لاہور نے یہ شہادت بھی دی ہے۔اس انجمن کے قریباً پونے دو سو ممبر ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں تبلیغ کے متعلق جو سستی ہو گئی تھی اس کے ذریعہ سے وہ دور ہو گئی اور سلسلہ حقہ کی خالص تبلیغ کا جوش نہ صرف اس کے ممبران میں ہی بلکہ دوسرے لوگوں میں بھی پیدا ہو گیا اور ایسے لوگ جوست ہو گئے تھے چست ہو گئے اور جو پہلے سے ہی چست تھے وہ تو چست ہی تھے خواجہ صاحب نے بھی اس خیال سے کہ دیکھوں اس انجمن میں کیا بھید ہے اس میں داخل ہونا چاہا، لیکن سات دن کا استخارہ غالباً ان کے راستہ میں روک ہوا یا کوئی اور باعث ہوا جو اس وقت میرے ذہن میں نہیں ہے۔طریق تبلیغ کے متعلق الہی اشارہ چونکہ انجمن انصار اللہ کا قیام تبلیغ سلسلہ احمدیہ کے لئے تھا اس لئے میں اس جگہ ضمناً یہ بھی ذکر کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ جس طرح خلافت کے مسئلہ کے متعلق میں نے اُس وقت تک آگے آنے کی جرات نہیں کی جب تک کہ مجھے رویا میں اس کے متعلق بتایا نہیں گیا اسی طرح تبلیغ کے طریق کے متعلق بھی بغیر استخارہ اور دعا اور الہی اشارہ کے میں نے کچھ نہیں کیا۔چنانچہ خواجہ صاحب کے طر ز تبلیغ کو دیکھ کر جب جماعت میں اعتراضات ہونے شروع | ہوئے تو میں نے اُس وقت تک کوئی طریق اختیار نہیں کیا جب تک کہ دعا و استخارہ نہیں کر لیا۔اس استخارہ کے بعد مجھے رویا میں خواجہ صاحب کے متعلق دکھایا گیا کہ وہ خشک روٹی کو کیک سمجھے ہوئے ہیں اور اسی کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اس پر میں نے ان کے اس رویہ کی تردید شروع کی ورنہ پہلے میں بالکل خاموش تھا۔