خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 412
خلافة على منهاج النبوة ۴۱۲ جلد اول اپنے خیال میں مجھے خلافت کا شائق سمجھ کر یہ چال چلی تھی کہ اس طرح مطمئن کر دیں اور خود موقع پر پہنچ کر اپنے منشاء کے مطابق کوئی تجویز کریں ورنہ اگر وہ میری خلافت پر متفق تھے تو اس بات کے کیا معنی ہوئے کہ ان کا انتظار کیا جاوے ورنہ فتنہ ہوگا۔جب ان کے نزدیک بھی مجھے ہی خلیفہ ہو جانا چاہئے تھا تو ان کی عدم موجودگی میں بھی اگر یہ کام ہو جا تا تو فتنہ کا باعث کیوں ہوتا۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ روحانی مریض کے مرض روحانی میں بڑھنے انصار الله کیلئے بھی سامان پیدا ہوتے رہتے ہیں اسی طرح ان لوگوں کے ساتھ ہوا۔فروری ۱۹۱۱ء میں میں نے ایک رؤیا دیکھی کہ :۔ایک بڑا محل ہے اور اس کا ایک حصہ گرا رہے ہیں اور اس محل کے پاس ایک میدان ہے اور اس میں ہزاروں آدمی پتھیروں کا کام کر رہے ہیں اور بڑی سرعت سے اینٹیں پاتھتے ہیں۔میں نے پوچھا کہ یہ کیسا مکان ہے اور یہ کون لوگ ہیں اور اس مکان کو کیوں گرا ر ہے ہیں ؟ تو ایک شخص نے جواب دیا کہ یہ جماعت احمد یہ ہے اور اس کا ایک حصہ اس لئے گرا رہے ہیں تا پُرانی اینٹیں خارج کی جائیں (اللہ رحم کرے) اور بعض کچی اینٹیں پکی کی جائیں اور یہ لوگ اینٹیں اس لئے پاتھتے ہیں تا اس مکان کو بڑھایا جائے اور وسیع کیا جائے۔یہ ایک عجیب بات تھی کہ سب پتھیروں کا منہ مشرق کی طرف تھا۔اُس وقت دل میں خیال گزرا کہ یہ خیرے فرشتے ہیں اور معلوم ہوا کہ جماعت کی ترقی کی فکر ہم کو بہت کم ہے بلکہ فرشتے ہی اللہ تعالیٰ سے اذن پا کر کام کر رہے ہیں۔اس رؤیا سے تحریک پا کر میں نے حضرت خلیفہ امسیح کی اجازت سے ایک انجمن بنائی جس کے فرائض تبلیغ سلسلہ احمدیہ، حضرت خلیفہ المسیح کی فرمانبرداری، تسبیح ، تحمید و درود کی کثرت ، قرآن کریم اور احادیث کا پڑھنا اور پڑھانا ، آپس میں محبت بڑھانا ، بدظنی اور تفرقہ سے بچنا ، نماز با جماعت کی پابندی رکھنا تھے۔ممبر ہونے کیلئے یہ شرط رکھی گئی کہ سات دن متواتر استخارہ کے بعد کوئی شخص اس انجمن میں داخل ہو سکتا ہے اس کے بغیر نہیں۔اس