خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 411
خلافة على منهاج النبوة ۴۱۱ جلد اول نے ان کو یہ جواب دیا کہ ایک خلیفہ کی زندگی میں اس کے جانشین کے متعلق تعیین کر دینی اور فیصلہ کر دینا کہ اس کے بعد فلاں شخص خلیفہ ہو گناہ ہے۔میں تو اس امر میں کلام کرنے کو ہی گناہ سمجھتا ہوں۔جیسا کہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے خواجہ صاحب کی اس تقریر کی بعض باتیں خاص توجہ کے قابل تھیں۔اوّل تو یہ کہ اس سے ایک گھنٹہ پہلے تو انہی لوگوں نے حضرت خلیفہ اسیح سے کہا تھا کہ کوئی خطرہ کی بات نہیں ، وصیت کی ضرورت نہیں اور وہاں سے اُٹھتے ہی آئندہ کا انتظام سوچنا شروع کر دیا۔دوسری بات یہ کہ ان کی تقریر سے صاف طور پر اس طرف اشارہ نکلتا تھا کہ ان کو تو خلافت کی خواہش نہیں لیکن مجھے ہے۔مگر میں نے اُس وقت ان بحثوں میں پڑنے کی ضرورت نہ سمجھی کیونکہ ایک دینی سوال در پیش تھا اور اس کی نگہداشت سب سے زیادہ ضروری تھی۔دیا ہے مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کر مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب کی خلیفہ ہونے کی خواہش صاحب کی یہ بات کہ ہم خلافت کے خواہشمند نہیں ہیں اس کا صرف یہ مطلب تھا کہ لفظ خلافت کے خواہشمند نہیں کیونکہ ان لوگوں نے خلافت کی جگہ ایک نئی قسم کا عہدہ پریذیڈنٹ یا امیر جماعت کا وضع کر لیا ہے جو عملاً خلیفہ کا مترادف سمجھا جاتا ہے اور جس کے مدعی اس وقت محمد علی صاحب ہیں اور خواجہ صاحب تو اب اپنے آپ کو خلیفتہ المسیح لکھتے ہیں۔گوان کو خلافت کی کوئی بات بھی میسر نہیں اور شاید یہ خطاب جو ان کے دوستوں نے ان کو دیا ہے اور انہوں نے بھی اپنے لئے پسند کر لیا ہے یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا کے طور پر ہے تا کہ دنیا دیکھ لے کہ وہ خلافت کے اس قدر شائق تھے کہ خلیفہ اسیح ہونا تو الگ رہا اگر خلافت نہ ملے تو خالی نام ہی سے وہ اپنا دل خوش کرتے ہیں۔اس جگہ یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ بعد کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ فریب دہی تجویز جو خواجہ صاحب اور ان کے رفقاء نے میرے سامنے پیش کی درحقیقت ایک فریب تھا اور گو اُس وقت اس امر کا خیال نہیں ہو سکتا مگر اب معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے