خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 410
خلافة على منهاج النبوة ۴۱۰ جلد اول گر گئے اور کچھ دن آپ کی حالت بہت نازک ہو گئی۔حتی کہ آپ نے مرزا یعقوب بیگ صاحب جو اُس وقت آپ کے معالج تھے دریافت کیا کہ میں موت سے نہیں گھبرا تا آپ بے دھڑک طبی طور پر بتا دیں کہ اگر میری حالت نازک ہے تو میں کچھ ہدایات وغیرہ لکھوا دوں۔مگر چونکہ یہ لوگ حضرت مولوی صاحب کا ہدایات لکھوانا اپنے لئے مضر سمجھتے تھے آپ کو کہا گیا کہ حالت خراب نہیں ہے اور اگر ایسا وقت ہوا تو وہ خود بتا دیں گے مگر وہاں سے نکلتے ہی ایک مشورہ کیا گیا اور دوپہر کے وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب میرے پاس آئے کہ ایک مشورہ کرنا ہے آپ ذرا مولوی محمد علی صاحب کے مکان پر تشریف لے چلیں۔میرے نانا صاحب جناب میر ناصر نواب صاحب کو بھی وہاں بلوایا گیا تھا۔جب میں وہاں پہنچا تو مولوی محمد علی صاحب ، خواجہ صاحب ، مولوی صدرالدین صاحب اور ایک یا دو آدمی وہاں پہلے سے موجود تھے۔خواجہ صاحب نے ذکر شروع کیا کہ آپ کو اس لئے بلوایا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کی طبیعت بہت بیمار اور کمزور ہے۔ہم لوگ یہاں ٹھہر تو سکتے نہیں لا ہور واپس جانا ہمارے لئے ضروری ہے پس اس وقت دو پہر کو جو آپ کو تکلیف دی ہے تو اس سے ہماری غرض یہ ہے کہ کوئی ایسی بات طے ہو جاوے کہ فتنہ نہ ہوا اور ہم لوگ آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو خلافت کی خواہش نہیں ہے کم سے کم میں اپنی ذات کی نسبت تو کہہ سکتا ہوں کہ مجھے خلافت کی خواہش نہیں ہے اور مولوی محمد علی صاحب بھی آپ کو یہی یقین دلاتے ہیں۔اس پر مولوی محمد علی صاحب بولے کہ مجھے بھی ہرگز خواہش نہیں۔اس کے بعد خواجہ صاحب نے کہا کہ ہم بھی آپ کے سوا خلافت کے قابل کسی کو نہیں دیکھتے اور ہم نے اس امر کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن آپ ایک بات کریں کہ خلافت کا فیصلہ اُس وقت تک نہ ہونے دیں جب تک ہم لا ہور سے نہ آجاویں۔ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص جلد بازی کرے اور پیچھے فساد ہو ہمارا انتظار ضرور کر لیا جائے۔میر صاحب نے تو ان کو یہ جواب دیا کہ ہاں جماعت میں فساد کے مٹانے کے لئے کوئی تجویز ضرور کرنی چاہئے۔مگر میں نے اُس وقت کی ذمہ داری کو محسوس کر لیا اور صحابہ کا طریق میری نظروں کے سامنے آ گیا کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے کے متعلق تجویز خواہ وہ اُس کی وفات کے بعد کے لئے ہی کیوں نہ ہو نا جائز ہے۔پس میں