خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 409

خلافة على منهاج النبوة ۴۰۹ جلد اول جماعت پر ان کا خاص اثر ہو جاوے اور دوسرے لوگوں کی نظریں بھی اُن کی طرف اُٹھنے لگیں۔چنانچہ انجمن کے اجلاسات میں صاف طور پر کہا جاتا تھا کہ جو کچھ مولوی صاحب حکم دیں گے وہی ہم کریں گے اور ایک دفعہ شیخ رحمت اللہ صاحب نے صاف طور پر یہ الفاظ کہے کہ ہمارے تو یہ امیر ہیں۔بیان کیا جاتا ہے کہ ۱۹۱۱ء میں مذہبی کا نفرنس کے موقع پر جب مولوی محمد علی صاحب خواجہ صاحب اپنے مضامین سنانے کے لئے گئے تو لوگوں کے دریافت کرنے پر خواجہ صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کو اپنا پیر یا لیڈر بیان کیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی زندگی میں ہی یہ بات عام طور پر بیان ہوتی چلی آئی ہے مگر خواجہ صاحب نے کبھی اس کی تردید نہیں کی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ درست ہی ہے۔اسی طرح اور سب معاملات میں مولوی محمد علی صاحب کو اس طرح آگے کرنے کی کوشش کی جاتی تھی کہ لوگوں کی نظریں حضرت خلیفہ المسیح کی طرف سے ہٹ کر انہی کی طرف متوجہ ہو جاویں۔مگر یہ دونوں کوششیں ان کی برکا رگئیں۔پہلی بے جا کوششوں کا اکارت جانا کوشش تو اس طرح کہ ۱۹۱۰ء میں حضرت۔۔لیہ اسیح نے صدر انجمن احد یہ کولکھ دیا کہ میں چونکہ خلیفہ ہوں ممبرانجمن اور صد را مجمن نہیں رہ سکتا میری جگہ مرزا محمود حمد کو پریذیڈنٹ مقرر کیا جاوے۔اس طرح اس تد بیر کا تو خاتمہ ہوا۔حضرت خلیفتہ المسیح انجمن سے علیحدہ ہو گئے اور آپ کی جگہ میں صدر ہو گیا اور اب یہ ظاہر کرنے کا موقع نہ رہا کہ خلیفہ کی اطاعت بوجہ خلافت نہیں کی جاتی بلکہ بوجہ پریذیڈنٹ انجمن ہونے کے اُس کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔دوسری تدبیر خود اپنے ہی ہاتھوں سے اکارت چلی گئی۔جو نہی خواجہ صاحب کو کچھ شہرت حاصل ہوئی وہ اپنے وجود کو آگے لانے لگے اور لوگوں کی توجہ بھی اُن کی طرف ہی پھر گئی اور مولوی صاحب خود ہی پیچھے ہٹ گئے اور ان کی رائے کا وہ اثر نہ رہا جو پہلے تھا۔۱۹۱۰ء کے آخری مہینوں میں حضرت خلیفہ اسح کا ۱۹۱۰ء میں بیمار ہونا حضرت عایقہ اسی گھوڑے سے