خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 400
خلافة على منهاج النبوة ۴۰۰ جلد اول " کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ( مراد حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ہیں ) مجھ سے بیعت دوبارہ لی۔یہ بالکل سچ ہے۔بیعت کس امر کی ؟ بیعت ارشاد! کیا تم ایمان سے کہہ سکتے ہو کہ انہوں نے مجھ سے تجدید بیعت کرائی۔وہ بیعت ارشاد تھی نہ بیعت تو بہ کی تجدید۔اس کے بعد ایک اور بیعت رہ جاتی ہے وہ ہے بیعت دم۔اب جاؤ صوفیائے کرام کے حالات پڑھو اور دیکھو کہ بیعت ارشاد وہ کس مرید سے لیتے ہیں۔وہ سلسلہ میں داخل کرنے کے وقت مرید سے بیعت تو بہ لیتے ہیں اور جب اس میں اطاعت کی استعداد دیکھتے ہیں تو اس سے بیعت ارشاد لیتے ہیں۔اور پھر جب اس پر اعتما دکھی ہوتا ہے تو بیعت دم۔‘۳ اب میں پھر اس مضمون کی طرف آتا ہوں۔حضرت خلیفہ المسیح ان لوگوں خفیہ مخالفت کی ان حرکات سے ناراض ہوئے اور سخت ناراض ہوئے۔ان کو دوبارہ بیعت کرنی پڑی۔لیکن جہاں دوسرے لوگوں کے دل صاف ہوئے ان کے دلوں میں کینہ کی آگ اور بھی بھڑک اُٹھی۔صرف فرق یہ تھا کہ پہلے تو اس آگ کے شعلے کبھی او پر بھی آجاتے تھے اب ان کو خاص طور پر سینہ میں ہی چھپایا جانے لگا تا کہ وقت پر ظاہر ہوں اور سلسلہ احمدیہ کی عمارت کو جلا کر راکھ کر دیں۔مولوی محمد علی صاحب اس واقعہ کے بعد گلی طور پر ان لوگوں کے ہاتھ میں پڑ گئے جو عقیدہ سلسلہ سے علیحدہ تھے اور ان فتنوں نے ان کو ان لوگوں کے ایسا قریب کر دیا کہ آہستہ آہستہ دو تین سال کے عرصہ میں نامعلوم طور پر ان کے ساتھ متحد فی العقیدۃ ہو گئے۔خواجہ صاحب موقع شناس آدمی ہیں۔انہوں نے تو یہ رنگ اختیار کیا کہ خلافت کے متعلق عام مجالس میں تذکرہ ہی چھوڑ دیا اور چاہا کہ اب یہ معاملہ دبا ہی رہے تا کہ جماعت احمدیہ کے افراد آئندہ ریشہ دوانیوں کا اثر قبول کرنے کے قابل رہیں۔خلیفہ کی بجائے پریذیڈنٹ انہوں نے سمجھ لیا کہ اگر آج اس مسئلہ پر پوری ، روشنی پڑی تو آئندہ پھر اس میں تاویلات کی کا لفظ استعمال کرنا گنجائش نہ رہے گی۔چنانچہ اس بات کو مدنظر رکھ کر ظاہر میں انہوں نے خلافت کی اطاعت شروع کر دی اور یہ تدبیر اختیار کی گئی کہ