خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 399

خلافة على منهاج النبوة ۳۹۹ جلد اول صرف وہ واقعات درج کرنا چاہتا ہوں جو یقینی طور پر ثابت ہوں۔مگر بعد کے واقعات نے چونکہ اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ ان کی بیعت محض خوف کی بیعت تھی اور مصلحت وقت کی بیعت تھی اس لئے ان کے بیان سے انکار کرنے کی ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں اور علاوہ ازیں ابھی چند دن نہ گزرے تھے کہ میری موجودگی میں مولوی محمد علی صاحب کا ایک پیغام حضرت خلیفہ امسیح کے پاس آیا تھا کہ وہ قادیان سے جانے کا ارادہ کر چکے ہیں کیونکہ ان کی بہت ہتک ہوئی ہے جس سے اس روایت کی صحت ثابت ہوتی ہے۔واقعات بیان کردہ کے شاہد ہی وہ واقعات ہیں جن کے دیکھنے والے سینکڑوں لوگ زندہ موجود ہیں اور وہ لوگ جو اُس وقت اس مجلس میں موجود تھے ان میں کچھ تو ایسے لوگ ہیں جو اس وقت ان کے ساتھ ہیں اور کچھ ایسے جو میری بیعت میں ہیں۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ اگر غلیظ قسموں سے دریافت کیا جاوے تو دونوں فریق کے آدمی ان واقعات کی صداقت کی شہادت دیں گے کیونکہ اتنی بڑی مجلس میں ہونے والا ایسا مہتم بالشان واقعہ چھپایا نہیں جاسکتا۔خواجہ صاحب اور ان کے پیشتر اس کے کہ میں واقعات کے سلسلہ کو آگے چلاؤں میں ان لوگوں کی ایمانی حالت کا ایک ساتھیوں کی ایمانی حالت نقشہ پیش کرتا ہوں جس سے ہر ایک شخص سمجھ لے گا کہ یہ لوگ کہاں تک ایمانداری سے کام لے رہے ہیں۔پچھلی دفعہ جب خواجہ کمال الدین صاحب ولایت سے آئے تو جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے انہوں نے اختلافات سلسلہ کے متعلق ایک لیکچر دیا تھا اس میں وہ اس واقعہ بیعت کو اس رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ گویا حضرت خلیفہ اول نے ان کی روحانی صفائی کو دیکھ کر خاص طور پر اُن سے بیعت لی تھی۔مندرجہ بالا واقعات کو پڑھ کر ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص ان حالات ن حالات کے مطابق کی جانے والی بیعت کو بیعت ارشاد اور ایک انعام اور عزت افزائی اور علامت تقرب قرار دیتا ہے اور دیکھنے والوں کی آنکھوں میں خاک ڈالنی چاہتا ہے کیا اس کی کسی بات کا بھی اعتبار ہو سکتا ہے۔خواجہ صاحب کے اصل الفاظ اس بارہ میں یہ ہیں :۔