خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 395

خلافة على منهاج النبوة ۳۹۵ جلد اول تھا گویا یہ آیت اُسی وقت نازل ہوئی ہے اور ہر ایک شخص کا دل خشیتہ اللہ سے بھر گیا اور اُس وقت مسجد یوں معلوم ہوتی تھی جیسے ماتم کدہ ہے۔باوجو دسخت ضبط کے بعض لوگوں کی چیچنیں اس زور سے نکل جاتی تھیں کہ شاید کسی ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کی وفات پر بھی اس طرح کرب کا اظہار نہ کیا ہو گا اور رونے سے تو کوئی شخص بھی خالی نہیں تھا۔خود حضرت خلیفہ امسیح کی آواز بھی شدت گریہ سے رُک گئی اور کچھ اس قسم کا جوش پیدا ہوا کہ آپ نے پھر ایک دفعہ اس آیت کو دُہرایا اور تمام جماعت نیم بسمل ہو گئی اور شاید ان لوگوں کے سوا جن کیلئے ازل سے شقاوت کا فیصلہ ہو گیا تھا سب کے دل دہل گئے اور ایمان دلوں میں گڑ گیا اور نفسانیت بالکل نکل گئی۔وہ ایک آسمانی نشان تھا جو ہم نے دیکھا اور تائید غیبی تھی جو مشاہدہ کی۔نماز ختم ہونے پر حضرت خلیفتہ اسے گھر کو تشریف لے گئے اور ان لوگوں نے پھر لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر دکھا کر سمجھانا چاہا کہ انجمن ہی آپ کے بعد جانشین ہے۔لوگوں کے دل چونکہ خشیتہ اللہ سے معمور ہو رہے تھے اور وہ اس تحریر کی حقیقت سے ناواقف تھے وہ اس کی امر کو دیکھ کر کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فیصلہ کر دیا ہے کہ میرے بعد انجمن جانشین ہوگی اور بھی زیادہ جوش سے بھر گئے مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ خشیتہ اللہ کا نزول دلوں پر کیوں ہو رہا ہے اور غیب سے کیا ظاہر ہونے والا ہے۔آخر جلسہ کا وقت قریب آیا اور لوگوں کو مسجد مبارک ( یعنی وہ مسجد جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر کے ساتھ ہے اور جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پنج وقتہ نمازیں ادا فرماتے تھے ) کی چھت پر جمع ہونے کا حکم دیا گیا۔اُس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ آپ مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اوّل ) سے جا کر کہیں کہ اب فتنہ کا کوئی خطرہ نہیں رہا کیونکہ سب لوگوں کو بتا دیا گیا ہے کہ انجمن ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جانشین ہے۔میں نے تو ان کے اس کلام کی وقعت کو سمجھ کر خاموشی ہی مناسب سمجھی مگر وہ خود حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں چلے گئے۔میں بھی وہاں پہنچ چکا تھا۔جاتے ہی ڈاکٹر صاحب نے حضرت خلیفہ المسیح سے عرض کی کہ مبارک ہو سب لوگوں کو سمجھا دیا گیا ہے کہ انجمن ہی جانشین ہے۔اس بات کو سن کر آپ نے فرمایا کون سی انجمن ؟ جس انجمن کو تم جانشین قرار دیتے ہو وہ تو خود بموجب