خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 391

۳۹۱ جلد اول خلافة على منهاج النبوة سرے جل گئے۔میں نے یہ رویا مگر می مولوی سید سرور شاہ صاحب سے بیان کی تو انہوں نے مسکرا کر کہا کہ مبارک ہو کہ یہ خواب پوری ہو گئی ہے۔کچھ واقعہ انہوں نے بتایا مگر یا تو پوری طرح ان کو معلوم نہ تھا یا وہ اُس وقت بتا نہ سکے۔میں نے پھر یہ رویا لکھ کر حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں پیش کی۔آپ نے اسے پڑھ کر ایک رقعہ پر لکھ کر مجھے جواب دیا کہ خواب پوری ہو گئی۔میر محمد الحق صاحب نے چند سوال لکھ کر دیئے ہیں جن سے خطرہ ہے کہ شور نہ پڑے اور بعض لوگ فتنہ میں پڑ جائیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ مجھے اس فتنہ کا علم ہوا اور وہ بھی ایک خواب کے ذریعہ۔اس کے بعد وہ سوالات جو حضرت خلیفہ اسیح نے جواب کیلئے لوگوں کو بھیجنے کا حکم دیا تھا مجھے بھی ملے اور میں نے ان کے متعلق خاص طور پر دعا کرنی شروع کی اور اللہ تعالیٰ سے ان کے جواب کے متعلق ہدایت چاہی۔اس میں شک نہیں کہ میں حضرت خلیفہ اول کی بیعت کر چکا تھا اور اس میں بھی شک نہیں کہ میں خلافت کی ضرورت کا عقلاً قائل تھا مگر با وجود اس کے میں نے اس امر میں بالکل محلی بالطبع ہو کر غور شروع کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا میں لگ گیا کہ وہ مجھے حق کی ہدایت دے۔اس عرصہ میں وہ تاریخ نز دیک آگئی جس دن کہ جوابات حضرت خلیفة المسیح کو دینے تھے۔میں نے جو کچھ میری سمجھ میں آیا لکھا اور حضرت خلیفہ اسیح کو دے دیا۔مگر میری طبیعت سخت بے قرار تھی کہ خدا تعالیٰ خود کوئی ہدایت کرے۔یہ دن اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ میرے لئے سخت ابتلاء کے دن تھے۔دن اور رات غم اور رنج میں گزرتے تھے کہ کہیں میں غلطی کر کے اپنے مولیٰ کو ناراض نہ کرلوں۔مگر باوجو د سخت کرب اور تڑپ کے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ نہ معلوم ہوا۔تختی کہ وہ رات آگئی جس کی صبح کو ۳۱ ر جنوری ۱۹۰۹ کا معرکۃ الآرا دن جلسہ تھا۔لوگ چاروں طرف سے جمع ہونا شروع ہوئے مگر ہر ایک شخص کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ آنے والے دن کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ رہا ہے۔بیرونجات سے آنے والے لوگوں سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کو امر سمجھانے کی پوری طرح کوشش کی گئی ہے کہ اصل جانشین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی