خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 390
جلد اول خلافة على منهاج النبوة ۳۹۰ صاحب نے جو کچھ جواب دیا وہ حضرت خلیفہ اول کو حیرت میں ڈالنے والا تھا۔کیونکہ اس میں خلیفہ کی حیثیت کو ایسا گرا کر دکھایا گیا تھا کہ سوائے بیعت لینے کے اس کا کوئی تعلق جماعت سے باقی نہ رہتا تھا۔حضرت خلیفہ اول نے اس پر حکم دیا کہ ان سوالوں کی بہت سی نقلیں کر کے جماعت میں تقسیم کی جاویں اور لوگوں سے ان کے جواب طلب کئے جاویں اور ایک خاص تاریخ (۳۱ / جنوری ۱۹۰۹ء) مقرر کی کہ اُس دن مختلف جماعتوں کے قائم مقام جمع ہو جاویں تا کہ سب سے مشورہ لیا جاوے۔اُس وقت تک بھی مجھے اس فتنہ کا علم نہ تھا۔حتی کہ مجھے ایک رؤیا ہوئی جس کا مضمون حسب ذیل ہے۔فتنہ کی اطلاع بذریعہ رویا حصـ میں نے دیکھا کہ ایک مکان ہے اس کے دو حصے ہیں۔ایک حصہ تو مکمل ہے اور دوسرا نامکمل۔نامکمل < پر چھت پڑ رہی ہے، کڑیاں رکھی جا چکی ہیں مگر او پر تختیاں نہیں رکھی گئیں اور نہ مٹی ڈالی گئی ہے۔ان کڑیوں پر کچھ بھو سا پڑا ہے اور اس کے پاس میر محمد الحق صاحب، میرے چھوٹے بھائی مرزا بشیر احمد صاحب اور ایک اور لڑکا جو حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کا رشتہ دار تھا اور جس کا نام نثار احمد تھا اور جو اب فوت ہو چکا ہے (اللہ تعالیٰ اسے غریق رحمت کرے ) کھڑے ہیں۔میر محمد الحق صاحب کے ہاتھ میں دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہے اور وہ اس میں سے دیا سلائی نکال کر اس بھوسے کو جلانا چاہتے ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ آخر یہ بھو سا جلایا تو جائے گا ہی مگر ابھی وقت نہیں ابھی نہ جلائیں ایسا نہ ہو کہ بعض کڑیاں بھی ساتھ ہی جل جاویں۔اس پر وہ اس ارادہ سے باز رہے اور میں اُس جگہ سے دوسری طرف چل پڑا۔تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ مجھے کچھ شور معلوم ہوا۔مڑ کر کیا دیکھتا ہوں کہ میر صاحب بے تحاشا دیا سلائیاں نکال کر جلاتے ہیں اور اس بھوسے کو جلانا چاہتے ہیں مگر اس خیال سے کہ کہیں میں واپس نہ آ جاؤں جلدی کرتے ہیں اور جلدی کی وجہ سے دیا سلائی بجھ جاتی ہے۔میں اس بات کو دیکھ کر واپس دوڑا کہ ان کو روکوں مگر پیشتر اس کے کہ وہاں تک پہنچتا ایک دیا سلائی جل گئی اور اس سے انہوں نے بھوسے کو آگ لگا دی۔میں دوڑ کر آگ میں کود پڑا اور آگ کو بجھا دیا مگر اس عرصہ میں کہ اس کے بجھانے میں کامیاب ہوتا چند کڑیوں کے