خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 385
خلافة على منهاج النبوة ۳۸۵ جلد اول خواجہ صاحب کا سمجھوتہ تھا جو ایڈیٹر وطن سے ریویو کے متعلق کیا گیا تھا مگر در اصل اس خط و کتابت میں بعض ایسے عقائد کی بنیاد پڑ گئی جو آئندہ کیلئے غیر مبائعین کے عقائد کا مرکزی نقطہ قرار پائے۔عبدالحکیم نے ابتداء ۱۹۰۶ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سب سے پہلا خط لکھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ : ا۔سوائے ان کے جو ہمیں کا فر کہتے ہیں باقی کے پیچھے نماز جائز ہونی چاہئے۔۲ ریویو آف ريليجنز کے متعلق جو تجویز خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب نے کی تھی اسے مان لیا جاوے اور اس پر عمل کیا جاوے۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وجود خادمِ اسلام ہے نہ اصل اسلام پس آپ کے وجود کو پیش کرنے کی خاطر اسلام کی اشاعت میں روک نہ ڈالی جاوے۔عام قاعدہ حکمت کے ماتحت پہلے شرک ، بدعت وغیرہ بڑے مسائل لوگوں کے سامنے پیش کئے جاویں پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات کو پیش کیا جاوے۔۔صرف وفات مسیح پر اس قدر زور نہ دیا جاوے دوسرے مسائل اسلام کی طرف بھی توجہ کی جاوے۔۔احمدیوں کی اخلاقی حالت بہت گری ہوئی ہے ان کی عملی حالت کی درستی کی طرف خاص ے۔توجہ کی جاوے۔۔ہماری جماعت کا مشنری کام بہت سست ہے اس کی طرف خاص توجہ کی جائے۔ہم غیر احمدی مسلمانوں سے سلام تک ترک کر بیٹھے ہیں حالانکہ عدم تبلیغ کے مجرم ہم ہیں۔اسلام کی طرف سچی رہبر فطرت صحیحہ اور سچی تعلیم ہے نہ کہ محض پیشگوئیاں۔پس قرآنی تعلیم کو مردہ قرار دینا حد درجہ کی بیبا کی ہے ( یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے جو وطن کی تحریک کے متعلق کہی گئی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر درمیان سے ہٹا کر کیا مردہ اسلام پیش کیا جاوے۔مرزا محمود احمد )۔اگر احمد اور محمد جدا نہیں تو جس رنگ میں محمدی تعلیم تیرہ سو سال سے ہوتی چلی آئی ہے اسے اب مردہ کیوں قرار دیا جاوے۔