خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 384

خلافة على منهاج النبوة ۳۸۴ جلد اوّل چند منٹ نہ گزرے تھے کہ لوگ بت بن گئے اور ایسا ہوا کہ گویا اُن پر سحر کیا ہوا ہے۔وقت مقررہ گزر گیا مگر لوگوں کی دلچسپی میں کچھ کمی نہ آئی اور وقت بڑھایا گیا مگر وہ بھی کافی نہ ہوا۔آخر کارلوگوں کے اصرار سے جلسہ کا ایک دن اور بڑھایا گیا اور اُس دن بقیہ لیکچر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ختم کیا گیا۔مخالف اور موافق سب نے بالا تفاق کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لیکچر سب سے بالا رہا اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بات پوری ہوئی مگر اس زبر دست پیشگوئی کو خواجہ صاحب کی کمزوری ایمان نے پوشیدہ کر دیا۔اب ہم ان واقعات کو سناتے ہیں مگر کجا ہمارے سنانے کا اثر اور کجا وہ اثر جو اس اشتہار کے قبل از وقت شائع کر دینے سے ہوتا اس صورت میں اس پیشگوئی کو جوا ہمیت حاصل ہوتی ہر ایک شخص بخوبی ذہن میں لاسکتا ہے۔خواجہ صاحب کی احمدیت اسی قسم کے اور بہت سے واقعات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خواجہ صاحب نے احمدیت کے مغز کو نہیں کے مغز سے ناواقفیت پایا تھا اور ان کا احمدیت میں داخل ہونا درحقیقت اس احسان کا نتیجہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان پر کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دشمنوں کی طرف سے بعض مقدمات ہوئے ان میں خواجہ صاحب پیروکار ہوتے تھے۔اس دوران میں بھی خواجہ صاحب نے بعض کمزوریاں دکھائیں جن کے بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں۔۱۹۰۵ء میں وطن اخبار کی ایک تحریک پر کہ ریویو آف ریلیجنز میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر نکال دیا جاوے اور عام اسلامی باتیں ہوں تو غیر احمدی بھی اس میں مدد کریں گے خواجہ صاحب تیار ہو گئے کہ ایسا ہی کر لیا جاوے اور یہ فیصلہ بھی کر لیا کہ ایک ضمیمہ ریویو کے ساتھ ہو جس میں کہ سلسلہ کے متعلق ذکر ہواصل رسالہ میں عام باتیں ہوں۔اس فیصلہ پر اس قدرشور ہوا کہ آخر کار ان کو دبنا پڑا اور یہ تجویز خواجہ صاحب کے دل ہی دل میں رہ گئی۔مگر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کی اس تحریک سے ایک شخص ڈاکٹر عبد الحکیم مُر مذ کو جو مدت سے گندے عقائد میں مبتلا تھا جرات ہوگئی اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس بارہ میں خط و کتابت شروع کر دی اور گومحرک اس خط و کتابت کا