خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 371

خلافة على منهاج النبوة ۳۷۱ جلد اول اور کعب چھد کر گر پڑے اور جب حضرت عائشہ پر تیر پڑنے لگے تو صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس پر حملہ ہوتا دیکھ کر کٹنا اور مرنا شروع کر دیا اور مسلمانوں میں کوئی لڑائی ایسی خونریز نہیں ہوئی جیسی یہ ہوئی۔حضرت عائشہؓ کے سامنے ایک ایک کر کے آتے اور مارے جاتے۔اُس وقت بڑے بڑے جرنیل اور بہادر مارے گئے۔آخر جب دیکھا گیا کہ لڑا بند ہونے کی کوئی صورت نہیں اور قریب ہے کہ تمام مسلمان کٹ کر مر جائیں یہ کیا گیا کہ حضرت عائشہ کے اونٹ کے پاؤں کاٹ دیئے گئے اور جوں ہی اونٹ گرا بصرہ والے بھاگ گئے اور حضرت علیؓ کا لشکر غالب آ گیا۔یہ جنگِ جمل کا حال ہے۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ دراصل انہی لوگوں نے لڑائی کرائی جو شریر اور مفسد تھے اور اسلام میں فتنہ ڈالنا اُن کی غرض تھی۔لڑائی کے بعد حضرت عائشہ مدینہ کی طرف جانا چاہتی تھی۔انہیں ادھر روانہ کر دیا گیا اور حضرت علیؓ اور دوسرے صحابی الوداع کرنے کے لیے ساتھ آئے۔روانہ ہوتے وقت حضرت عائشہ نے کہا کہ ہم میں کوئی عداوت نہیں اتنا ہی اختلاف تھا جتنا رشتہ داروں کا آپس میں ہو جایا کرتا ہے۔یہی بات حضرت علیؓ نے کہی۔اس طرح ان کی بالکل صلح وصفائی ہو گئی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جنگ جمل کو بیان کرنے کے بعد حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ کی لڑائی کے حالات بیان کئے اور مفسدوں کی شرارتوں اور فتنہ پردازیوں کا ذکر کرتے ہوئے ثابت کیا کہ تمام اختلاف اور انشقاق کے بانی یہی لوگ تھے جن کی وجہ سے یسے حالات پیدا ہو گئے تھے کہ واقعات کا صحیح طور پر سمجھنا سخت مشکل ہو گیا تھا۔آخر انہی لوگوں نے حضرت علییؓ کے قتل کی سازش کی اور قتل کرا دیا۔ان کے بعد حضرت حسنؓ کو خلیفہ 66 منتخب کیا گیا لیکن انہوں نے معاویہ کے حق میں دست بردار ہو کر صلح کر لی۔“ النصر: ٣ (انوار العلوم جلد ۴ صفحه ۶۳۴ تا ۶۴۰ ) الكامل في التاريخ لابن الاثير جلد ۳ صفحه ۲۵۸ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء