خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 370
خلافة على منهاج النبوة جلد اول ہی کیا۔طرفین کے لوگ بڑے اطمینان سے رات کو سوئے ہوئے تھے کہ صبح صلح ہو جائے گی لیکن رات کو جب شور و شر سے اُٹھے تو دیکھا کہ تلوار چل رہی ہے۔ادھر مفسدوں نے یہ چالا کی کی کہ اگر ہماری اس سازش کا پتہ لگ گیا تو ہم قتل کئے جائیں گے اس کے لیے اُنہوں نے یہ کیا کہ ایک آدمی حضرت علیؓ کے پاس کھڑا کر دیا اور اُسے کہہ دیا جس وقت تم شور کی آواز سنو اُسی وقت انہیں کہہ دو کہ ہم پر حملہ کیا گیا۔اُدھر انہوں نے حملہ کیا اور ادھر اس نے حضرت علی کو یہ اطلاع دی اور ان کی طرف سے کچھ آدمی ان پر جا پڑے۔دونوں طرفوں کو اس بات کا ایک دوسرے پر افسوس تھا کہ جب صلح کی تجویز کی گئی تھی تو پھر دھوکا سے کیوں حملہ کیا گیا۔حالانکہ یہ دراصل مفسدوں کی شرارت تھی۔ایسی صورت میں بھی حضرت علیؓ نے احتیاط سے کام لیا اور اعلان کر دیا کہ ہمارا کوئی آدمی مت لڑے خواہ وہ ہمارے ساتھ لڑتے رہیں۔مگر مفسدوں نے نہ مانا۔اُدھر بصرہ والوں کو بھی غصہ آ گیا اور وہ بھی لڑنے لگ گئے۔یہ ایک عجیب لڑا ئی تھی کہ فریقین نہ چاہتے تھے کہ لڑیں لیکن لڑ رہے تھے۔اُس وقت حضرت علیؓ نے لڑائی کو روکنے کے لیے ایک اور تجویز کی کہ ایک آدمی کو قرآن دے کر بھیجا کہ اس کے ساتھ فیصلہ کر لو۔اس پر بصرہ والوں نے خیال کیا کہ رات تو خفیہ حملہ کر دیا گیا ہے اور اب کہا جاتا ہے قرآن سے فیصلہ کر لو یہ نہیں ہو سکتا۔حضرت علیؓ نے تو نیک نیتی سے ایسا کیا تھا لیکن حالات ہی ایسے پیدا ہو گئے تھے کہ اس بات کو سمجھا نہیں جا سکتا تھا۔اُس وقت اُس آدمی کو جو قرآن لے کر گیا تھا قتل کر دیا گیا۔اس پر حضرت علیؓ اور ان کے ساتھیوں کو اور بھی غصہ آیا کہ قرآن کی طرف بلایا جاتا ہے اس کی طرف بھی نہیں آتے اب کیا کیا جاوے۔یہی صورت ہے کہ حملہ ہو۔ادھر سے بھی حملہ ہوا اور لڑائی بہت زور سے شروع ہو گئی۔آخر جب اس کے ختم ہونے کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو ایک صحابی جن کا نام کعب تھا حضرت عائشہ کے پاس گئے اور جا کر کہا کہ مسلمان ایک دوسرے کو مار رہے ہیں اس وقت آپ کے ذریعہ ان کی جان بچ سکتی ہے آپ میدان میں چلیں۔حضرت عائشہ اونٹ پر سوار ہو کر گئیں اور انہوں نے کعب کو قرآن دے کر کھڑا کیا کہ اس سے فیصلہ کر لو۔حضرت علیؓ نے جب ان کا اونٹ دیکھا تو فوراً حکم دیا کہ لڑائی بند کر دو۔مگر مفسدوں نے بے تحاشا تیر مارنے شروع کر دئیے