خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 369
خلافة على منهاج النبوة ۳۶۹ جلد اول حضرت علی فرماتے ہیں کہ قرآن کا حکم قاتل کو قتل کرنا ہے لیکن یہ نہیں ہے کہ فوراً قتل کر دیا جائے۔اس لئے فی الحال اس بات کو نہیں اُٹھانا چاہیے۔اس طرح فتنہ اور زیادہ بڑھ جائے گا۔اس پر ان کے متعلق کہا گیا کہ باغیوں کی طرف داری کرتے ہیں اور صحابہ مدینہ چھوڑ کر باہر جانے لگے۔حضرت طلحہ اور زبیر مدینہ چھوڑ کر مکہ پہنچے۔حضرت عائشہ پہلے سے وہاں گئی ہوئی تھیں۔جب ان کو معلوم ہوا کہ حضرت علی قاتلوں کو سزا نہیں دیتے تو انہوں نے ارادہ کر لیا کہ ابھی ان کو سزا دینی چاہیے۔میرے خیال میں حضرت علیؓ کی رائے موقع اور محل کے لحاظ سے احتیاط اور بچاؤ کا پہلو لئے ہوئے ہونے کی وجہ سے اعلیٰ تھی۔مگر شریعت کی پیروی کے لحاظ سے حضرت عائشہ اور دوسرے صحابیوں کی اعلیٰ تھی۔حضرت طلحہ اور زبیر نے مکہ پہنچ کر حضرت عثمان کا انتقام لینے کے لیے لوگوں کو جوش دلایا اور حضرت عائشہ اور ان کی یہی رائے ہوئی کہ خواہ کچھ ہوا بھی قاتلوں کو سزا دینی چاہیے۔اس پر اعلان کر دیا گیا کہ ہم قاتلوں کو قتل کرنے کے لیے جاتے ہیں۔اور لوگ بھی ان کے ساتھ ہو گئے اور کوئی سات آٹھ سو کے قریب تعداد ہو گئی اور اُنہوں نے قاتلوں کے ساتھ لڑنا دین کی بہت اعلیٰ خدمت سمجھی۔اُس وقت سوال پیدا ہوا کہ ہماری تعداد تھوڑی ہے اگر ہم جائیں گے تو کوئی نتیجہ نہ ہو گا وہ غالب آجائیں گے اس لیے چاہیے کہ بصرہ چلیں جو فوج کی چھاؤنی تھی۔یہ گروہ جب بصرہ کی طرف چلا اور حضرت علی کو خبر ہوئی تو وہ بھی بصرہ کی طرف روانہ ہو گئے۔جب بصرہ کے پاس پہنچے اور ایک صحابی قعقاع کو حضرت عائشہ کے س بھیجا کہ جا کر دریافت کرو کس غرض کے لیے آئے ہیں۔اُنہوں نے کہا اصلاح کے لیے۔کہا گیا پھر لڑائی کیوں کریں خود مل کر فیصلہ کر لیتے ہیں۔اس پر طرفین راضی ہو گئے اور حضرت علی نے اعلان کر دیا کہ حضرت عثمان کے قتل میں جو لوگ شریک تھے وہ میرے لشکر میں نہ رہیں۔اس پر امید ہو گئی کہ صلح ہو جائے گی مگر مفسد کہاں یہ پسند کر سکتے تھے کہ صلح ہو۔انہیں ڈر تھا کہ اگر صلح ہوگئی تو ہم مارے جائیں گے۔انہوں نے رات کو آپس میں مشورہ کیا اور آخر یہ تجویز قرار پائی کہ رات کو شب خون ماریں اور خود ہی چھا پہ ڈالیں۔انہوں نے ایسا