خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 368
خلافة على منهاج النبوة ۳۶۸ جلد اوّل ہو جائے کوئی خلیفہ نہیں ہونا چاہئے۔مگر ایسے لوگوں کی تعداد بہت قلیل تھی۔اس طرح حضرت علی نے خلیفہ بننا منظور کر لیا مگر وہی نتیجہ ہوا جس کا انہیں خطرہ تھا۔تمام عالم اسلامی نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ حضرت علیؓ نے حضرت عثمان کو قتل کرایا ہے۔حضرت علی کی اگر اور تمام خوبیوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو میرے نزدیک ایسی خطرناک حالت میں ان کا خلافت کو منظور کر لینا ایسی جرات اور دلیری کی بات تھی جو نہایت ہی قابل تعریف تھی کہ انہوں نے اپنی عزت اور اپنی ذات کی اسلام کے مقابلہ میں کوئی پرواہ نہ کی اور اتنا بڑا بوجھ اُٹھا لیا۔حضرت علیؓ جب خلیفہ ہو گئے اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے اس شرط پر بیعت کی کہ قرآن کے احکام کی اتباع کی جائے گی اور شریعت کے احکام کو مد نظر رکھا جائے گا۔جس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ حضرت عثمان کے قاتلوں کو سزا دی جائے۔مگر اُس وقت حالت یہ تھی کہ باوجود اس کے کہ حضرت علی خلیفہ تھے مدینہ باغیوں کی چھاؤنی بنا ہوا تھا۔چند دن کے بعد حضرت طلحہ اور زبیر حضرت علیؓ کے پاس گئے اور جا کر کہا کہ باغیوں سے بدلا لیجئے۔انہوں نے پوچھا مدینہ کا حاکم میں ہوں یا باغی؟ انہوں نے کہا کہ ابھی تو باغی ہی ہیں۔حضرت علیؓ نے کہا پھر میں ان سے کس طرح بدلا لے سکتا ہوں۔جب تک عام جوش ٹھنڈا نہ ہو ، باہر سے مدد نہ آئے ، انتظام نہ ہو ا سوقت تک کیا ہو سکتا ہے اس بات کو انہوں نے مان لیا۔اُس وقت مدینہ میں تین قسم کے مفسد لوگ تھے ایک باغی ، دوسرے بدوی جولوٹ مار کے لئے آگئے تھے تیسرے غلام جو سب کے سب بے دین تھے۔حضرت علیؓ نے تجویز کی کہ آہستہ آہستہ ان کو مدینہ سے نکالیں۔چنانچہ انہوں نے مسجد میں اعلان کیا کہ ہر ایک غلام اپنے آقا کے ہاں چلا جائے ورنہ میں اس کی طرف سے خدا کے سامنے بری ہوں۔باغی جو بہت چالاک اور ہوشیار تھے انہوں نے خیال کیا کہ اس طرح ہم کو کمزور کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔اس پر انہوں نے کہہ دیا کہ کوئی باہر نہیں جائے گا اور کوئی اس حکم کو نہ مانے۔پھر حضرت علیؓ نے بدوؤں کے متعلق اعلان کیا کہ گھروں کو چلے جائیں اس پر بھی انکار کر دیا گیا۔ادھر تو یہ حالت تھی اور اُدھر بعض صحابہؓ اس بات پر زور دے رہے تھے کہ قاتلوں کو سزادی جائے اور ہمیں قرآن کے حکم پر عمل کرنا چاہیے خواہ ہماری جان بھی چلی جائے۔