خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 366

خلافة على منهاج النبوة ۳۶۶ جلد اول کو دیکھا اور ان کی قوت اور شوکت کا ظاہری طور پر مقابلہ کرنے کے اپنے آپ کو نا قابل پایا تو انہوں نے مسلمانوں کے اندر داخل ہو کر دعا اور فریب سے ان کو مٹانے کی کوشش شروع کر دی۔ایسے ہی لوگوں نے اسلام میں فتنہ کی بنیاد رکھی اور ان لوگوں کو اول اول اپنے ساتھ ملایا جن کی تربیت پورے طور پر اسلام میں نہ ہوئی تھی۔اس کے بعد حضور نے فرمایا :۔حضرت عثمان کے زمانہ میں جو فتنہ اُٹھا اس میں اور حضرت علیؓ کے زمانہ کے فتنہ میں ایک بہت بڑا فرق ہے اور وہ یہ کہ حضرت عثمان کے خلاف جو لوگ کھڑے ہوئے وہ اسلام میں کوئی درجہ نہ رکھتے تھے بلکہ فاسق و فاجر تھے لیکن ان کے بعد جو جھگڑا ہوا اس میں دونوں طرف بڑے بڑے جلیل القدر انسان نظر آتے ہیں۔یہ بہت بھیا نک نظارہ ہے۔اس کیلئے تمہید کے طور پر یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ ضروری نہیں کہ اختلاف خواہ کسی دینی امر میں ہو یا دنیوی میں ہمیشہ اس کی وجہ سے کوئی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ایک اختلاف کو تو خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت قرار دیا ہے۔مگر ایک اختلاف رحمت تو نہیں ہوتا لیکن اس کے کرنے والے کو فاسق اور فاجر بھی نہیں کہا جا سکتا اور وہ ایسا اختلاف ہے کہ اختلاف کرنے والے کے پاس اس کی تائید میں کافی وجوہ ہوں اور وہ نیک نیتی سے ان کو پیش کرتا ہو۔ہاں ایسے مسئلہ میں اختلاف نہ ہو جس کے نہ ماننے سے انسان اسلام سے خارج ہو جاتا ہو۔ایسے شخص کو خاطی کہا جائے گا نہ کہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا۔اس تمہید کے بعد حضور نے حضرت علیؓ کے زمانہ کے فتنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرما یا :۔جب حضرت عثمان کو شہید کر دیا گیا تو مفسدوں نے بیت المال کو لوٹا اور اعلان کر دیا۔کہ جو مقابلہ کرے گا قتل کر دیا جائیگا۔لوگوں کو جمع نہیں ہونے دیا جاتا تھا اور مدینہ کا انہوں نے سخت محاصرہ کر رکھا تھا اور کسی کو باہر نہیں نکلنے دیا جاتا تھا حتی کہ حضرت علیؓ جن کی محبت کا وہ لوگ دعوی کرتے تھے ان کو بھی روک دیا گیا اور مدینہ میں خوب لوٹ مچائی۔ادھر تو یہ حالت تھی اور اُدھر انہوں نے اپنے قساوت قلبی کا یہاں تک ثبوت دیا کہ حضرت عثمان جیسے مقدس انسان کو جن کی رسول کریم ﷺ نے بڑی تعریف کی ہے قتل کرنے کے بعد بھی نہ چھوڑا اور