خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 365

خلافة على منهاج النبوة ۳۶۵ جلد اول واقعات خلافت علوی مؤرخہ ۲۶ فروری ۱۹۱۹ء کو مارٹن ہسٹار لیکل سوسائٹی اسلامیہ کالج لاہور میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے اسلام میں اختلافات کا آغاز پر ایک معرکۃ الآراء لیکچر دیا جس میں حضور نے صحابہ کرام پر ہونے والے متعدد اعتراضات کو حل کرتے ہوئے حضرت عثمان کی افسوسناک شہادت کی وجوہ بیان فرمائیں۔اس خطاب میں آپ حضرت علی کے زمانہ خلافت کے واقعات بھی بیان کرنا چاہتے تھے مگر وقت کی تنگی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔چنانچہ حضور نے ۱۷ / فروری ۱۹۲۰ء کو واقعات خلافت علوی پر اسلامیہ کالج لاہور کی مارٹن ہٹاریکل سوسائٹی کے زیرا ہتمام اسانتہائی اہم اور ضروری موضوع پر لیکچر دیا۔حضرت خلیفہ اسیح کی تقریر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے کلمات تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کر کے جو عظیم الشان اور نہایت مؤثر لیکچر دیا اس کا کسی قدر خلاصہ درج ذیل کیا جاتا ہے :۔حضور نے گزشتہ سال کے لیکچر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اُس وقت تنگی وقت کی وجہ سے حضرت علی کے زمانہ کے واقعات کو نہایت مختصر طور پر بیان کرنا پڑا تھا۔آج میں ان کو کسی قدر تفصیل سے بیان کروں گا۔اس کے بعد حضور نے مسلمانوں کے اختلاف کی وجوہات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک وجہ تو یہ تھی کہ مسلمانوں کو روحانی اور جسمانی فتوحات جلد جلد اور اس کثرت سے حاصل ہوئیں کہ وہ دونوں پہلوؤں سے ان کا پورا پورا انتظام کر سکے۔صحابہ کی تعداد يَدْخُلُونَ في دين الله افواجا ا کے مقابلہ میں بہت کم تھی اس وجہ سے مسلمانوں کے ایک حصہ میں کمزوری رہ گئی۔دوسرے یہ کہ پہلے تو اسلام کے دشمنوں کا خیال تھا کہ مسلمان جلدی مٹ جائیں گے لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کی ظاہری فتوحات