خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 358

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۸ جلد اول کو یہی کہا کہ خواہ کچھ ہو میں اس جماعت میں اختلاف پسند نہیں کرتا۔میں ان میں سے جو خلیفہ ہوگا اُس کی بیعت کرلوں گا۔مگر خدا کچھ اور چاہتا تھا اور جو کچھ وہ چاہتا تھا وہی ہوا۔تو ان لوگوں کا ہماری نیتوں پر حملہ کرنا دراصل خدا تعالیٰ پر حملہ کرنا ہے کیونکہ یہ دل کی حالت کو نہیں جانتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں هَلْ شَقَقْتَ قَلْبَهُ اے کیا تم جس انسان کی نیت پر حملہ کرتے ہو اُس کا دل پھاڑ کر تم نے دیکھ لیا ہے؟ ہماری نیتوں پر غیر مسائعین کے حملے ان لوگوں نے ہماری نیتوں پر بے جا حملے کئے مگر اب خدا تعالیٰ نے ان کی نیتوں کو کھول کر رکھ دیا ہے۔ان کی طرف سے اعلان ہوا تھا کہ مسیح موعود علیہ السلام کے بعد کسی کو ہم خلیفہ نہیں مان سکتے کہ خلیفہ کا خلیفہ نہیں ہو سکتا۔پھر انہوں نے کہا کہ واجب الاطاعت خلافت کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے خلیفہ یا تو بادشاہ ہو سکتا ہے یا مامور اور جو ایسا نہ ہو وہ اسلامی طور پر خلیفہ نہیں کہلا سکتا۔پھر مولوی محمد علی صاحب نے اپنے ایک ٹریکٹ میں لکھا کہ ہم مولوی صاحب کے الفاظ کا احترام کرنے کیلئے کہتے ہیں انجمن کا پریذیڈنٹ بنا لیا جائے اور وہ امیر ہو۔بس اسے امارت کا حق ہو اور کچھ نہ ہو۔ہم ان کی نیتوں پر حملہ نہیں کرتے کہ ان کی مرضی خود یہ حق حاصل کرنے کی تھی لیکن جب وہ خود اپنی مرضی کا اظہار کر دیں تو ہمارا اس میں کیا دخل ہے۔سئلہ خلافت اور غیر مبائعین پچھلے ہی دنوں میرا ایک حدیث کا درس غلط طور پر رسالہ تشخیز میں چھپ گیا۔جس میں اس بات کا ذکر تھا کہ اگر ایک خلیفہ کی موجودگی میں کوئی دوسرا شخص خلافت کا دعوی کرے تو وہ واجب القتل ہوتا ہے۔اس پر ان لوگوں نے جھٹ شور مچا دیا کہ مولوی محمد علی صاحب کے قتل کا فتوی دے دیا گیا۔اب یہ امر دو حالتوں سے خالی نہیں۔اول اگر مولوی محمد علی صاحب خلیفہ ہیں تو پہلے انہوں نے جھوٹ کہا تھا کہ خلیفہ کا خلیفہ نہیں ہو سکتا اور اگر وہ خلافت کے مدعی نہیں تو اب جو شور مچایا جاتا ہے یہ بالکل جھوٹا شور ہے۔مگر اس پر ان لوگوں نے بڑا شور مچا یا حالانکہ بات بالکل صاف تھی۔لیکن باوجود اس کے کہ وہ کہہ سکتے تھے کہ میں نے مولوی محمد علی صاحب کو