خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 353

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۳ جلد اول الذين من تایم پس میں اپنے الہام پر کھڑا ہونے کا دعویدار نہیں بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے الہام پر کھڑا ہونے کا مدعی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے یوسف قرار دیا ہے۔میں کہتا ہوں مجھے یہ نام دینے کی کیا ضرورت تھی۔یہی کہ پہلے یوسف کی جو ہتک کی گئی ہے اس کا میرے ذریعہ ازالہ کرایا جاوے۔پس وہ تو ایسا یوسف تھا جسے بھائیوں نے گھر سے نکالا تھا مگر یہ ایسا یوسف ہے جو اپنے دشمن بھائیوں کو گھر سے نکال دے گا۔اُس یوسف کو تو بھائیوں نے کنعان سے نکالا تھا مگر اس یوسف نے اپنے دشمن بھائیوں کو قادیان سے نکال دیا۔ہم نے اُس یوسف کا بدلہ لے لیا ہے اور اُس یوسف کی ہتک کا ازالہ کر دیا ہے۔پس میرا مقابلہ آسان نہیں۔نہ اس لئے کہ میں کسی بات کا دعویدار ہوں۔میں تو جانتا ہوں کہ میں جاہل ہوں۔کوئی ڈگری حاصل نہیں کی اور نہ کوئی سند لی۔نہ انگریزی مدارس کا ڈگری یافتہ ہوں اور نہ عربی مدارس کا سند یافتہ ہوں۔قرآن اور بخاری اور چند کتب خلیفہ اول نے پڑھائی تھیں اور دروس النحویہ کے حصے مولوی سید سرور شاہ صاحب سے پڑھے تھے اس کے سوا اور کسی جگہ عربی نہیں پڑھی۔مگر کسی علم کے جانے والے سے جب کوئی دینی گفتگو ہوئی ہے تو خدا نے مجھے کامیاب کیا ہے۔میں جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا مگر جس مقام پر خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے خدا تعالیٰ کو اُس کی عزت منظور ہے اور چونکہ میں اُسی کو منواتا ہوں اس لئے وہ میری تائید کرتا ہے۔اب اگر مجھے اس منصب اور مقام کی عزت کا خیال نہ ہوتا تو اپنی ہتک اسی طرح برداشت کر لیتا جس طرح اس منصب پر کھڑا ہونے سے پہلے کر لیا کرتا تھا۔اُس وقت میری ذات پر اعتراض کئے جاتے ، میرے خلاف کوششیں کی جاتیں لیکن میں نے کبھی ان کے ازالہ کی کوشش نہ کی۔کلام محمود میں کئی شعر واقعات کے متعلق ہیں۔چنانچہ جب ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کو بڑے منصوبے بنا کر ان لوگوں نے مجھ سے ناراض کرانا چاہا تو اس سے مجھے بہت صدمہ ہوا۔اور رات کو کچھ شعر کہے۔جن میں سے دو تین یہ ہیں۔میرے دل رنج و غم کا بار ہے ہاں خبر لیجئے کہ حالت زار ہے میرے دشمن کیوں ہوئے جاتے ہیں لوگ