خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 345

خلافة على منهاج النبوة ۳۴۵ جلد اول ہیں اسی طرح جماعت کی ترقی کے لئے غور کرنے اور اس کیلئے دعا کرنے پر بہت سا وقت صرف ہوتا ہے۔اس لئے مجھے وقت ہی نہیں مل سکتا کہ ان کی ہر ایک بات کا خود جواب لکھتا رہوں۔اس لئے اس شرط کا یہ مطلب ہوا کہ وہ لکھتے رہیں اور ہماری طرف سے کوئی جواب نہ شائع ہو۔غرض یہ شرطیں عجیب رنگ رکھتی ہیں۔مگر جیسا کہ کسی نے کہا ہے بہر رنگے کہ خواہی جامہ مے من انداز قدت را پوش شناسم ہم اُن کی باتوں میں آنے والے نہیں ہیں۔ہمارا اور اُن کا اختلاف کوئی معمولی اختلاف نہیں بلکہ بہت بڑا اختلاف ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور معاویہؓ کے اختلاف سے سینکڑوں گنے زیادہ ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب معاویہؓ نے خط لکھا کہ میں آپ کی زیارت کیلئے آنا چاہتا ہوں تو اُنہوں نے جواب دیا کہ زیارت اسی طرح ہو سکتی ہے کہ یا میں تمہارے پاس آؤں یا تم میرے پاس آؤ۔اگر میں آیا تو لشکر سم آؤں گا اور اگر تم آئے تو تلوار تمہارا مقابلہ کرے گی۔کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس اختلاف کو مذہبی اختلاف سمجھتے تھے اور معاویہ گو اس کا بانی اور ان کے ساتھ صلح کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔پس ہم کو تو ان سے زیادہ اختلاف ہے اور معاویہ سے زیادہ انہوں نے امت اسلامیہ میں شقاق پیدا کیا ہے۔پس جب تک اس شقاق کو یہ لوگ دور نہ کریں ان سے صلح ہم کس طرح کر سکتے ہیں۔یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ غیروں کے ساتھ صلح ہو سکتی ہے لیکن اُن اپنوں سے جو معاند ہوں اور مفسد ہوں اس وقت تک صلح نہیں ہوسکتی جب تک وہ فساد ترک نہ کر دیں۔یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ مل کر اپنے جوش نکالیں اور منصو بے پکائیں۔لیکن چونکہ اس قسم کے تجربے ہم سے پہلے لوگ کر کے نقصان اُٹھا چکے ہیں اس لئے ہم تجربہ کرنا نہیں چاہتے۔بے شک ہمیں یہ منظور ہے کہ سخت کلامی نہ ہو کیونکہ سخت کلامی شرفاء کا کام نہیں اور اگر وہ اس سے باز آجائیں تو گو ہم نے پہلے ہی روکا ہوا ہے اب اور بھی تاکید کر دیں گے۔لیکن اس کے سوا ان کی شرائط میں اور کوئی بات نہیں جو قابل قبول ہو۔میں آپ لوگوں کو یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس دفعہ میں نے بعض مصالح کے لحاظ