خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 325
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۵ جلد اول ایمانداری کے خلاف اور اطاعت کے حکم کے متضاد خیال کرتے تھے اور با وجود حضرت عثمان کو اللہ کی قسم دینے کے انہوں نے کوٹنے سے انکار کر دیا۔حضرت عثمان کا صحابہ کو وصیت کرنا آخر حضرت عثمان نے ڈھال ہاتھ میں پکڑی اور باہر تشریف لے آئے اور صحابہ کو اپنے مکان کے اندر لے گئے اور دروازے بند کرا دیئے اور آپ نے سب صحابہ اور ان کے مددگاروں کو وصیت کی کہ خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو دنیا اس لئے نہیں دی کہ تم اس کی طرف جھک جاؤ بلکہ اس لئے دی ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے آخرت کے سامان جمع کرو۔یہ دنیا تو فنا ہو جاوے گی اور آخرت ہی باقی رہے گی۔پس چاہیے کہ فانی چیز تم کو غافل نہ کرے۔باقی رہنے والی چیز کو فانی ہو جانے والی چیز پر مقدم کرو اور خدا تعالیٰ کی ملاقات کو یاد رکھو اور جماعت کو پراگندہ نہ ہونے دو۔اور اس نعمت الہی کو مت بھولو کہ تم ہلاکت کے گڑھے میں گرنے والے تھے اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے تم کو نجات دے کر بھائی بھائی بنا دیا۔اس کے بعد آپ نے سب کو رُخصت کیا اور کہا کہ خدا تعالیٰ تمہارا حافظ و ناصر ہو۔تم سب اب گھر سے باہر جاؤ اور ان صحابہ کو بھی بلوا ؤ جن کو مجھ تک آنے نہیں دیا تھا۔خصوصاً حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر کو۔یہ لوگ باہر آگئے اور دوسرے صحابہ کو بھی بلوایا گیا۔اُس وقت کچھ ایسی کیفیت پیدا ہو رہی تھی اور ایسی افسردگی چھا رہی تھی کہ باغی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہے اور کیوں نہ ہوتا سب دیکھ رہے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلائی ہوئی ایک شمع اب اس دنیا کی عمر کو پوری کر کے اس دنیا کے لوگوں کی نظر سے اوجھل ہونے والی ہے۔غرض باغیوں نے زیادہ تعرض نہ کیا اور سب صحابہ جمع ہوئے۔جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ گھر کی دیوار پر چڑھے اور فرمایا میرے قریب ہو جاؤ۔جب سب قریب ہو گئے تو فرمایا کہ اے لوگو! بیٹھ جاؤ۔اس پر صحابہ بھی اور مجلس کی ہیبت سے متاثر ہو کر باغی بھی بیٹھ گئے۔جب سب بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا کہ اہل مدینہ ! میں تم کو خدا تعالیٰ کے سپر د کرتا ہوں اور اُس سے دعا کرتا ہوں کہ وہ میرے بعد تمہارے لئے خلافت کا کوئی بہتر انتظام فرما دے۔آج کے بعد اُس