خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 324
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۴ جلد اول ہمارے قتل میں کوئی شبہ نہیں۔اس گھبراہٹ کو اس خبر نے اور بھی دوبالا کر دیا کہ شام اور کوفہ اور بصرہ میں بھی حضرت عثمان کے خطوط پہنچ گئے ہیں اور وہاں کے لوگ جو پہلے سے ہی حضرت عثمان کے احکام کے منتظر تھے ان خطوط کے پہنچنے پر اور بھی جوش سے بھر گئے ہیں اور صحابہ نے اپنی ذمہ داری کو محسوس کر کے مسجدوں اور مجلسوں میں تمام مسلمانوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلا کر ان مفسدوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے دیا ہے اور وہ کہتے ہیں جس نے آج جہاد نہ کیا اُس نے گویا کچھ بھی نہ کیا۔کوفہ میں عقبہ بن عمر و عبد اللہ بن ابی اوفی اور حظلہ بن ربیع اسمیمی اور حصین ، دیگر صحابہ کرام نے لوگوں کو اہل مدینہ کی مدد کے لیے اُبھارا ہے تو بصرہ میں عمران بن انس بن مالک ، ہشام بن عامر اور دیگر صحابہ نے۔شام میں اگر عبادہ بن صامت، ابوامامہ اور دیگر صحابہؓ نے حضرت عثمان کی آواز پر لبیک کہنے پر لوگوں کو اُکسایا ہے تو مصر میں خارجہ و دیگر لوگوں نے۔اور سب ملکوں سے فوجیں اکٹھی ہو کر مدینہ کی طرف بڑھی چلی آتی ہیں۔غرض ان خبروں سے باغیوں کی حضرت عثمان کے گھر پر مفسدوں کا حملہ گھبراہٹ اور بھی بڑھ گئی آخر حضرت عثمان کے گھر پر حملہ کر کے بزوراندر داخل ہونا چاہا صحابہ نے مقابلہ کیا اور آپس میں سخت جنگ ہوئی گو صحابہ کم تھے مگر ان کی ایمانی غیرت ان کی کمی کی تعداد کو پورا کر رہی تھی۔جس جگہ لڑائی ہوئی یعنی حضرت عثمان کے گھر کے سامنے وہاں جگہ بھی تنگ تھی اس لئے مفسد ا پنی کثرت سے زیادہ فائدہ نہ اٹھا سکے۔حضرت عثمان کو جب اس لڑائی کا علم ہوا تو آپ نے صحابہ کو لڑنے سے منع کیا مگر وہ اُس وقت حضرت عثمان کو اکیلا چھوڑ دینا طبری کی روایت کے مطابق شام میں حضرت عثمان کی مدد کے لئے لوگوں میں جوش دلانے والے صحابہ میں حضرت ابو درداء انصاری بھی شامل تھے۔مگر دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت عثمان کی شہادت سے پہلے فوت ہو چکے تھے جیسا کہ استیعاب اور اصابہ سے ثابت ہے اور یہی درست ہے جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے یہ بھی اپنے ایامِ زندگی میں اس فتنہ کے مٹانے میں کوشاں رہے ہیں۔