خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 320
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۰ جلد اول جَمِيعًا اور مجھ پر الزام لگانے والوں کی باتوں کو قبول کیا اور قرآن کریم کے اس اشور حکم کی پرواہ نہ کی کہ يُّهَا الَّذینَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَا فَتَبَيَّنُوا اور میری بیعت کا ادب نہیں کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرماتا ہے کہ ان الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ الله " اور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہوں۔کوئی اُمت بغیر سردار کے ترقی نہیں کر سکتی اور اگر کوئی امام نہ ہو تو جماعت کا تمام کام خراب و برباد ہو جائے گا۔یہ لوگ اُمت اسلامیہ کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں اور اس کے سوا ان کی کوئی غرض نہیں۔کیونکہ میں نے ان کی بات کو قبول کر لیا تھا اور والیوں کے بدلنے کا وعدہ کر لیا تھا مگر انہوں نے اس پر بھی شرارت نہ چھوڑی۔اب یہ تین باتوں میں سے ایک کا مطالبہ کرتے ہیں۔اول یہ کہ جن لوگوں کو میرے عہد میں سزا ملی ہے اُن سب کا قصاص مجھ سے لیا جاوے۔اگر یہ مجھے منظور نہ ہو تو پھر خلافت کو چھوڑ دوں اور یہ لوگ میری جگہ کسی اور کو مقرر کر دیں۔یہ بھی نہ مانوں تو پھر یہ لوگ دھمکی دیتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے تمام ہم خیال لوگوں کو پیغام بھیجیں گے کہ وہ میری اطاعت سے باہر ہو جائیں۔پہلی بات کا تو یہ جواب ہے کہ مجھ سے پہلے خلفاء بھی کبھی فیصلوں میں غلطی کرتے تھے مگر اُن کو کبھی سزا نہ دی گئی اور اس قدر سزائیں مجھ پر جاری کرنے کا مطلب سوائے مجھے مارنے کے اور کیا ہوسکتا ہے۔خلافت سے معزول ہونے کا جواب میری طرف سے یہ ہے کہ اگر یہ لوگ موچنوں سے میری بوٹیاں کر دیں تو یہ مجھے منظور ہے مگر خلافت سے میں جدا نہیں ہوسکتا۔باقی رہی تیسری بات کہ پھر یہ لوگ اپنے آدمی چاروں طرف بھیجیں گے کہ کوئی میری بات نہ مانے۔سو میں خدا کی طرف سے ذمہ دار نہیں ہوں اگر یہ لوگ ایک امر خلاف شریعت کرنا چاہتے ہیں ریں۔پہلے بھی جب انہوں نے میری بیعت کی تھی تو میں نے ان پر جبر نہیں کیا تھا۔جو شخص عہد