خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 308

خلافة على منهاج النبوة ۳۰۸ جلد اوّل حق یہی ہے کہ یہ خط جعلی تھا اور مصری قافلہ میں سے کسی نے بنایا تھا اور چونکہ مصری قافلہ کے سوا دوسرے قافلوں میں کوئی شخص نہ اس قسم کی کارروائی کرنے کا اہل تھا اور نہ اس قد ر عرصہ میں متعد د اونٹ بیت المال کے چُرائے جا سکتے تھے اور نہ اس قدر غلام قا بو کئے جاسکتے تھے اس لئے دوسرے علاقوں کے والیوں کے نام کے خطوط نہ بنائے گئے۔ششم سب سے زیادہ اس خط پر روشنی وہ غلام ڈال سکتا تھا جس کی نسبت ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ خط لے گیا تھا مگر تعجب ہے کہ باوجود اس کے کہ حضرت عثمان نے گواہوں کا مطالبہ کیا ہے اس غلام کو پیش نہیں کیا گیا اور نہ بعد کے واقعات میں اس کا کوئی ذکر آتا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا پیش کیا جانا ان لوگوں کے مفاد کے خلاف تھا۔شاید ڈرتے ہوں کہ وہ صحابہؓ کے سامنے آکر اصل واقعات کو ظاہر کر دے گا۔پس اُس کو چھپا دینا بھی اِس امر کا ثبوت ہے کہ خط کے بنانے والا یہ مفسد گر وہ ہی تھا۔ہفتم ایک نہایت زبر دست ثبوت اس بات کا کہ ان لوگوں نے ہی یہ خط بنایا تھا یہ ہے کہ یہ پہلا خط نہیں جو انہوں نے بنایا ہے بلکہ اس کے سوا اسی فساد کی آگ بھڑ کانے کے لئے اور کئی خطوط انہوں نے بنائے ہیں۔پس اس خط کا بنانا بھی نہ ان کے لئے مشکل تھا اور نہ اس واقعہ کی موجودگی میں کسی اور شخص کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے۔وہ خط جو یہ پہلے بناتے رہے ہیں حضرت علی کے بد نام کرنے کے لئے تھے اور ان میں اس قسم کا مضمون ہوتا تھا کہ تم لوگ حضرت عثمان کے خلاف جوش بھڑکاؤ۔ان خطوط کے ذریعے عوام الناس کا جوش بھڑ کا یا جاتا تھا اور وہ حضرت علیؓ کی تصدیق دیکھ کر عبد اللہ بن سبا کی باتوں میں پھنس جاتے تھے۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان خطوط کا مضمون بہت مخفی رکھنے کا حکم تھا تا کہ حضرت علیؓ کو معلوم نہ ہو جائے اور وہ ان کی تردید نہ کر دیں۔اور مخفی رکھنے کی تاکید کی وجہ بھی بانیانِ فساد کے پاس معقول تھی۔یعنی اگر یہ خط ظاہر ہوں گے تو حضرت علی مشکلات میں پڑ جاویں گے۔اس طرح لوگ حضرت علیؓ کی خاطر ان خطوط کے مضمون کو کسی پر ظاہر نہ کرتے تھے اور بات کے مخفی رہنے کی وجہ سے بانیانِ فساد کا جھوٹ کھلتا بھی نہ تھا۔لیکن جھوٹ آخر زیادہ دیر تک چھپا نہیں رہتا خصوصاً جب سینکڑوں کو اس سے واقف کیا جاوے۔حضرت عثمان کے نام پر لکھا ہوا