خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 306
خلافة على منهاج النبوة جلد اول سوال و جواب اُس سے ہوئے وہ بالکل غیر طبعی ہیں۔کیونکہ وہ بیان کرتا ہے کہ وہ پیغا مبر ہے لیکن نہ اسے کوئی خط دیا گیا ہے اور نہ اسے کوئی زبانی پیغام دیا گیا ہے۔یہ جواب سوائے اس شخص کے کون دے سکتا ہے جو یا تو پاگل ہو یا خود اپنے آپ کو شک میں ڈالنا چاہتا ہو۔اگر واقعہ میں وہ شخص پیغامبر ہوتا تو اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ کہتا کہ میں حضرت عثمان یا کسی اور کا بھیجا ہوا ہوں۔یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ بیچ کا بڑا پا بند تھا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس خط تھا مگر اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں۔پس ان لوگوں کی روایت کے مطابق اس پیغا مبر نے جھوٹ تو ضرور بولا۔پس سوال یہ ہے کہ اس نے وہ جھوٹ کیوں بولا جس سے وہ صاف طور پر پکڑا جاتا تھا وہ جھوٹ کیوں نہ بولا جو ایسے موقع پر اس کو گرفتاری سے بچا سکتا تھا۔غرض یہ تمام واقعات بتاتے ہیں کہ خط اور خط لے جانے والے کا واقعہ شروع سے آخر تک فریب تھا۔انہی مفسدوں میں سے کسی نے ( زیادہ تر گمان یہ ہے کہ عبد اللہ بن سبا نے ) ایک جعلی خط بنا کر ایک شخص کو دیا ہے کہ وہ اسے لے کر قافلہ کے پاس سے گزرے لیکن چونکہ ایک آبا د راستہ پر ایک سوار کو جاتے ہوئے دیکھ کر پکڑ لینا قرین قیاس نہ تھا اور اس خط کو بنانے والا چاہتا تھا کہ جہاں تک ہو سکے اس واقعہ کو دوسرے کے ہاتھ سے پورا کر وائے اس لئے اس نے اس قاصد کو ہدایت کی کہ وہ اس طرح قافلہ کے ساتھ چلے کہ لوگوں کے دلوں میں شک پیدا ہو اور جب وہ اس شک کو دور کرنے کے لئے سوال کریں تو ایسے جواب دے کہ شک اور زیادہ ہو۔تا کہ عامۃ الناس خود اس کی تلاشی لیں اور خط اس کے پاس دیکھ کر ان کو یقین ہو جاوے کہ حضرت عثمان نے ان سے فریب کیا ہے۔چہارم اس خط کا مضمون بھی بتاتا ہے کہ وہ خط جعلی ہے اور کسی واقف کا رمسلمان کا بنایا ہوا نہیں۔کیونکہ بعض روایات میں اس کا یہ مضمون بتایا گیا ہے کہ فلاں فلاں کی ڈاڑھی منڈ وائی جاوے حالانکہ ڈاڑھی منڈوانا اسلام کی رو سے منع ہے اور اسلامی حکومتوں میں سزا صرف وہی دی جا سکتی تھی جو مطابق اسلام ہو۔یہ ہرگز جائز نہ تھا کہ کسی شخص کو سزا کے طور پر سو رکھلا یا جاوے یا شراب پلا ئی جاوے یا ڈاڑھی منڈ وائی جاوے۔کیونکہ یہ ممنوع امر ہے سزا صرف قتل یا ضرب یا ئجر مانہ یا نفی عن الارض کی اسلام سے ثابت ہے خواہ نفی بصورت