خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 299

خلافة على منهاج النبوة ۲۹۹ جلد اول تاریخ کی تصحیح کا زریں اصل لیکن کچی حالات معلوم کرنا امن بھی نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے ایسے راستے کھلے رکھے ہیں جن سے صحیح واقعات کو خوب عمدگی سے معلوم کیا جا سکتا ہے اور ایسے راوی بھی موجود ہیں جو بالکل بے تعلق ہونے کی وجہ سے واقعات کو کما حقہ بیان کرتے ہیں اور تاریخ کی تصحیح کا یہ زریں اصل ہے کہ واقعات عالم ایک زنجیر کی طرح ہیں۔کسی منفرد واقعہ کی صحت معلوم کرنے کے لئے اسے زنجیر میں پروکر دیکھنا ٹھیک اپنی جگہ پر پروئی بھی جاتی ہے کہ نہیں۔ہا ہے کہ وہ غلط اور صحیح واقعات میں تمیز کرنے کے لئے یہ ایک نہایت ہی کا رآمد مددگار ہے۔غرض اُس زمانہ کے صحیح واقعات معلوم کرنے کے لئے احتیاط کی ضرورت ہے اور جرح و تعدیل کی حاجت ہے۔سلسلہ واقعات کو مدنظر رکھنے کے بغیر کسی زمانہ کی تاریخ بھی صحیح طور پر معلوم نہیں ہو سکتی مگر اُس زمانہ کی تاریخ تو خصوصاً معلوم نہیں ہوسکتی اور یورپین مصنفین نے اسی اختلاف سے فائدہ اُٹھا کر اُس زمانہ کی تاریخ کو ایسا بگاڑا ہے کہ ایک مسلمان کا دل اگر وہ غیرت رکھتا ہو ان واقعات کو پڑھ کر جلتا ہے اور بہت سے کمزور ایمان کے آدمی تو اسلام سے بیزار ہو جاتے ہیں۔افسوس یہ ہے کہ خود بعض مسلمان مؤرخین نے بھی بے احتیاطی سے اس مقام پر ٹھو کر کھائی ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کا باعث بن گئے ہیں۔حضرت عثمان اور دیگر صحابہ کی بریت میں اس مختصر وقت میں پوری طرح ان غلطیوں پر تو بحث نہیں کرسکتا جن میں یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں لیکن میں اختصار کے ساتھ وہ صحیح حالات آپ لوگوں کے سامنے بیان کر دوں گا جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عثمان اور دیگر صحابہ ہر ایک فتنہ سے یا عیب سے پاک تھے بلکہ ان کا رویہ نہایت اعلیٰ اخلاق کا مظہر تھا اور ان کا قدم نیکی کے اعلیٰ مقام پر قائم تھا۔باغیوں کا دوبارہ مدینہ میں داخل ہونا میں بتا چکا ہوں کہ مفسد لوگ بظاہر رضا مندی کا اظہار کر کے اپنے گھروں کی طرف واپس چلے گئے۔کوفہ کے لوگ کوفہ کی طرف ، بصرہ کے لوگ بصرہ کی طرف