خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 295

خلافة على منهاج النبوة ۲۹۵ جلد اول مدینہ کے ان کے ساتھ تھے۔اور جیسا کہ واقعات سے ثابت ہے صحابہ اور دیگر اہل مدینہ ان لوگوں سے سخت بیزار تھے۔پس ان کی دلیری کا یہ باعث تو نہیں ہوسکتا کہ وہ لوگ ان سے کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار کرتے تھے ان کی دلیری کا اصل باعث اوّل تو حضرت عثمان کا رحم تھا۔یہ لوگ سمجھتے تھے کہ اگر ہم کامیاب ہو گئے تو فَهُوَ الْمُرَادُ۔اور اگر نا کام رہے تو حضرت عثمان سے درخواست رحم کر کے سزا سے بچ جائیں گے۔دوسرے گو صحابہ اہل مدینہ کا طریق عمل یہ پچھلی دفعہ دیکھ چکے تھے اور ان کو معلوم تھا کہ حضرت عثمان کو ہماری آمد کا علم ہے مگر یہ لوگ خیال کرتے تھے کہ حضرت عثمان اپنے حلم کے باعث ان کے خلاف لڑنے کے لئے کوئی لشکر نہیں جمع کریں گے اور صحابہ ہمارا مقابلہ نہیں کریں گے۔کیونکہ یہ لوگ اپنے نفس پر قیاس کر کے سمجھتے تھے کہ صحابہ ظاہر میں حضرت عثمان سے اخلاص کا اظہار کرتے ہیں ورنہ اصل میں ان کی ہلاکت کو پسند کرتے ہیں۔اور اس خیال کی یہ وجہ تھی کہ یہ لوگ یہی ظاہر کیا کرتے تھے کہ صحابہ کے حقوق کی حفاظت کیلئے ہی ہم سب کچھ کر رہے ہیں۔پس ان کو خیال تھا کہ صحابہ ہمارے اس فریب سے متاثر ہیں اور دل میں ہمیں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔مفسدوں کا مدینہ میں پہنچنا جونہی اس لشکر کے مدینہ کے قریب پہنچنے کی اطلاع ملی صحابہ اور اہل مدینہ جو اردگرد میں جائدادوں پر انتظام کے لئے گئے ہوئے تھے مدینہ میں جمع ہو گئے اور لشکر کے دو حصے کئے گئے۔ایک حصہ تو مدینہ کے باہر ان لوگوں کے مقابلہ کرنے کے لئے گیا اور دوسرا حصہ حضرت عثمان کی حفاظت کیلئے شہر میں رہا۔جب تینوں قافلے مدینے کے پاس پہنچے تو اہل بصرہ نے ذوخشب مقام پر ڈیرہ لگایا ، اہل کوفہ نے اعوص پر اور اہل مصر نے ذوالمروہ پر۔اور مشورہ کیا گیا کہ اب ان کو کیا کرنا چاہیے۔گو اس لشکر کی تعداد کا اندازہ اٹھارہ سو آدمی سے لے کر تین ہزار تک کیا جاتا ہے۔( دوسرے حجاج جو ان کو قافلہ حج خیال کر کے ان کے ساتھ ہو گئے تھے وہ علیحدہ تھے مگر پھر بھی یہ لوگ سمجھتے تھے کہ دلاورانِ اسلام کا مقابلہ اگر وہ مقابلہ پر آمادہ ہوئے ان کے لئے آسان نہ ہوگا۔اس لئے مدینہ میں داخل ہوتے ہی پہلے اہل مدینہ کی رائے معلوم کرنا ضروری سمجھتے تھے۔چنانچہ دو شخص زیاد بن النضر اور عبداللہ بن الاصم نے