خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 294

خلافة على منهاج النبوة ۲۹۴ جلد اول مفسدوں کی ایک اور گہری سازش واپس جا کر ان لوگوں نے پھر خط و کتابت شروع کی اور آخر فیصلہ کیا کہ شوال میں اپنی پہلی تجویز کے مطابق حج کے ارادہ سے قافلہ بن کر نکلیں اور مدینہ میں جا کر یکدم تمام انتظام کو درہم برہم کر دیں اور اپنی مرضی کے مطابق نظام حکومت کو بدل دیں۔اس تجویز کے مطابق شوال یعنی چاند کے دسویں مہینے حضرت عثمان کی خلافت کے بارھویں سال ، چھتیسویں سال ہجری میں یہ لوگ تین قافلے بن کر اپنے گھروں سے نکلے۔ایک قافلہ بصرہ سے ، ایک کوفہ سے اور ایک مصر سے۔پچھلی دفعہ کی ناکامی کا خیال کر کے اور اس بات کو مد نظر رکھ کر کہ یہ کوشش آخری کوشش ہے عبد اللہ بن سبا خود بھی مصر کے قافلہ کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔اس رئیس المفسدین کا خود باہر نکلنا اس امر کی علامت تھا کہ یہ لوگ اب ہر ایک ممکن تدبیر سے اپنے مدعا کے حصول کی کوشش کریں گے۔چونکہ ہر ایک گروہ نے اپنے علاقہ میں حج پر جانے کے ارادہ کا اظہار کیا تھا کچھ اور لوگ بھی ان کے ساتھ یہ ارادہ حج شامل ہو گئے اور اس طرح اصل ارادے ان لوگوں کے عامۃ المسلمین سے مخفی رہے۔مگر چونکہ حکام کو ان کی اندرونی سازش کا علم تھا عبد اللہ بن ابی سرح والی مصر نے ایک خاص آدمی بھیج کر حضرت عثمان کو اس قافلہ اور اس کے مخفی ارادہ کی اطلاع قبل از وقت دے دی جس سے اہل مدینہ ہوشیار ہو گئے۔اس جگہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب تک اہل مدینہ اور خصوصاً صحابہ ان لوگوں کے تین دفعہ آنے پر ان کو قتل کرنا چاہتے تھے اور ان کو یہ معلوم تھا کہ ان کا حج کے بہانہ سے آکر فساد کرنے کا ارادہ حضرت عثمان پر ظاہر ہے تو پھر کیوں انہوں نے کوئی اور تد بیر اختیار نہ کی اور اسی پہلی تدبیر کے مطابق جن کا علم حضرت عثمان کو ہو چکا تھا سفر کیا۔کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ در حقیقت اہل مدینہ ان لوگوں کے ساتھ تھے اسی وجہ سے یہ لوگ ڈرے نہ تھے ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بے شک ان کی یہ دلیری ظاہر کرتی ہے کہ ان لوگوں کو اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا مگر اس کی یہ وجہ نہیں کہ صحابہ یا اہلِ مدینہ ان کے ساتھ تھے یا ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے تھے بلکہ جیسا کہ خود ان کے بیان سے ثابت ہے کہ صرف تین شخص