خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 290
خلافة على منهاج النبوة ۲۹۰ جلد اول اقطار عالم میں پھیل جاویں اور لوگوں کو یقین ہو جاوے کہ حضرت عثمان پر جو الزامات لگائے جاتے تھے وہ پایہ ثبوت کو پہنچا دیئے گئے ہیں۔یہ مشورہ کر کے یہ لوگ گھروں سے نکلے اور مدینے کی طرف سب نے رُخ کیا۔جب مدینہ کے قریب پہنچے تو حضرت عثمان کو ان کی آمد کا علم ہوا۔آپ نے دو آدمیوں کو بھیجا کہ وہ ان کا بھید لیں اور ان کی آمد کی اصل غرض دریافت کر کے اطلاع دیں۔یہ دونوں گئے اور مدینہ سے باہر اس قافلہ سے جاملے۔ان لوگوں نے ان دونوں مخبروں سے باتوں باتوں میں اپنے حالات بیان کر دیئے انہوں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا اہل مدینہ میں سے بھی کوئی شخص ان کے ساتھ ہے؟ جس پر مفسدوں نے کہا کہ وہاں تین شخص ہیں ان کے سوا کوئی چوتھا شخص ان کا ہمدرد نہیں۔ان دونوں نے دریافت کیا کہ پھر تمہارا کیا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ ارادہ یہ ہے کہ ہم مدینہ جا کر حضرت عثمان سے بعض ایسے امور کے متعلق گفتگو کریں گے جو پہلے سے ہم نے لوگوں کے دلوں میں بٹھا چھوڑے ہیں۔پھر ہم اپنے ملکوں کو واپس جاویں گے اور لوگوں سے کہیں گے کہ ہم نے حضرت عثمان پر بہت الزام لگائے اور ان کی سچائی ثابت کر دی مگر انہوں نے ان باتوں کے چھوڑنے سے انکار کر دیا اور تو بہ نہیں کی۔پھر ہم حج کے بہانہ سے نکلیں گے اور مدینہ پہنچ کر آپ کا احاطہ کر لیں گے۔اگر آپ نے خلافت سے علیحدگی اختیار کر لی تب تو خیر ورنہ آپ کو قتل کر دیں گے۔سازش کا انکشاف یہ دونوں مخبر پوری طرح ان کا حال لیکر واپس گئے اور حضرت عثمان کو سب حال سے اطلاع دی۔آپ ان لوگوں کا حال سن کر ہنس پڑے اور خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ الہی ! ان لوگوں کو گمراہی سے بچالے۔اگر تو نہ بچاوے گا تو یہ لوگ برباد ہو جاویں گے۔پھر ان تینوں شخصوں کی نسبت جو مدینہ والوں میں سے ان لوگوں کے ساتھ تھے فرمایا کہ عمار کو تو یہ غصہ ہے کہ اس نے عباس بن عقبہ بن ابی لہب پر حملہ کیا تھا اور اس کو زجر کی تھی اور محمد بن ابی بکر متکبر ہو گیا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اب اس پر کوئی قانون نہیں چلتا اور محمد بن ابی حذیفہ خواہ مخواہ اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال رہا ہے۔پھر آپ نے ان مفسدوں کو بھی بلوایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو بھی جمع کیا۔۔