خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 289

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۹ جلد اول ۲۵ لوگ ایک امام کے ماتحت ہوں ان میں تفرقہ ڈالنے کے لئے اور ان کی جماعت کو پراگندہ کرنے کے لئے کھڑا ہو جا وے اُسے قتل کر دو خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امام کے ساتھ اس کے عادل ہونے کی شرط نہیں لگائی یعنی تم لوگ یہ نہیں کہہ سکتے کہ حضرت عثمان عادل نہیں کیونکہ اگر یہ مان لیا جاوے تو تمہارا یہ فعل جائز نہیں۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عادل کی شرط نہیں لگائی بلکہ صرف یہ فرمایا ہے کہ لوگوں پر کوئی حاکم ہو۔یہ خیالات ہیں ان لوگوں کے جنہوں نے اپنی عمر میں خدمت اسلام کیلئے خرچ کر دی تھیں اور جنہوں نے اسلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سنا تھا اور آپ کے سامنے ان پر عمل کر کے سندِ قبولیت حاصل کی تھی۔وہ لوگ ان مفسدوں کے پیچھے نماز پڑھنا تو الگ رہا ان کا امام بننا بھی پسند نہیں کرتے تھے اور ان کو واجب القتل جانتے تھے۔کیا ان لوگوں کی نسبت کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ لوگ فتنہ عثمان میں شامل تھے یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت عثمان اور ان کے عمال حقوق رعایا کو تلف کرتے تھے یا ان واقعات کی موجودگی میں قبول کیا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کی خاطر یہ مفسد فساد برپا کر رہے تھے ؟ نہیں بلکہ یہ فسادی جماعت صحابہ پر حسد کر کے فساد پر آمادہ تھے اور اپنے دلی خیالات کو چھپاتے تھے حکومت اسلام کی بربادی ان کا اصل مقصد تھا۔اور یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا تھا جب تک حضرت عثمان کو درمیان سے نہ ہٹایا جائے۔بعض جاہل یا بے دین مسلمان بھی ان کے اس فریب کو نہ سمجھ کر خود غرضی یا سادگی کے باعث ان کے ساتھ مل گئے تھے۔مفسدوں کی ایک اور سازش حضرت ابوموسیٰ اشعری کے والی مقرر ہو جانے پر ان لوگوں کے فتنہ بر پا کرنے کی کوئی وجہ باقی نہ رہی تھی لیکن اس فتنہ کے اصل محرک اس امر کو پسند نہ کر سکتے تھے کہ ان کی تمام کوششیں اس طرح برباد ہو جاویں۔چنانچہ خط و کتابت شروع ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ سب ملکوں کی طرف سے کچھ لوگ وفد کے طور پر مدینہ منورہ کو چلیں۔وہاں آپس میں آئندہ طریق عمل کے متعلق مشورہ بھی کیا جاوے اور حضرت عثمان سے بعض سوال کئے جاویں تا کہ وہ باتیں تمام