خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 285
خلافة على منهاج النبوة ۲۸۵ جلد اول سمجھا۔یہ جزیرہ سے آنے والا شخص جو اپنے ساتھیوں سے ملنے کے لئے دو دومنزلوں کی ایک منزل کرتا چلا آیا تھا اپنے مدینہ سے آنے کا اعلان کرنے لگا اور لوگوں کو جوش دلانے کے لئے کہنے لگا کہ میں ابھی سعید بن العاص سے جد ا ہوا ہوں ، ان کے ساتھ ایک منزل ہم سفر رہا ہوں۔وہ علی الاعلان کہتا ہے کہ میں کوفہ کی عورتوں کی عصمتوں کو خراب کروں گا اور کہتا ہے کہ کوفہ کی جائدادیں قریش کا مال ہیں۔اور یہ شعر فخر یہ پڑھتا ہے۔وَيْلٌ لِاشْرَافِ النِّسَاءِ مِنِّي صَمَعْمَحٌ كَااَنَّنِي مِنْ جِيّ " شریف عورتیں میرے سبب سے مصیبت میں مبتلاء ہوں گی۔میں ایک ایسا مضبوط آدمی ہوں گویا جنات میں سے ہوں اس کی ان باتوں سے عامہ الناس کی عقل ماری گئی اور انہوں نے اس کی باتوں پر یقین کر لیا اور آنا فانا ایک جوش پھیل گیا۔عقل مندوں اور داناؤں نے بہت سمجھایا کہ یہ ایک فریب ہے اس فریب میں تم نہ آؤ مگر عوام کے جوش کو کون رو کے ان کی بات ہی کوئی نہ سنتا تھا۔ایک آدمی نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ جو چاہتا ہے کہ سعید بن العاص والی کوفہ کی واپسی اور کسی اور والی کے تقرر کا مطالبہ کرے اسے چاہیے کہ فوراً یزید بن قیس کے ہمراہ ہو جائے اس اعلان پر لوگ دوڑ پڑے اور مسجد میں سوائے داناؤں، شریف آدمیوں اور رؤساء کے اور کوئی نہ رہا۔عمر بن الجرید ،سعید کی غیر حاضری میں ان کے قائمقام تھے۔انہوں نے جو لوگ باقی رہ گئے تھے ان میں وعظ کہنا شروع کیا کہ اے لوگو ! خدا تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ ہم دشمن تھے۔اس نے تمہارے دلوں میں اتحاد پیدا کیا اور تم بھائی بھائی ہو گئے۔تم ایک ہلاکت کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے خدا تعالیٰ نے تم کو اس سے بچایا پس اس مصیبت میں اپنے آپ کو نہ ڈالو جس سے خدا تعالیٰ نے تم کو بچایا تھا۔کیا اسلام اور ہدایت الہی اور سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تم لوگ حق کو نہیں پہچانتے اور حق کے دروازہ کی طرف نہیں آتے؟ اس پر قعقاع بن عمرو نے ان سے کہا کہ آپ وعظ سے اس فتنہ کو روکنا چاہتے ہیں یہ امید نہ رکھیں۔ان شورشوں کو تلوار کے سوا کوئی چیز نہیں روک سکتی اور وہ زمانہ بعید نہیں کہ تلوار بھی کھینچی جائے گی۔اس وقت یہ لوگ بکری کے