خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 284

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۴ جلد اول انہوں نے اس لئے کہی کہ زمانہ خلفاء میں لوگوں کے آرام کے خیال سے جب والیوں کے خلاف کوئی تکلیف ہوتی تھی تو اکثر اُن کو بدل دیا جاتا تھا۔قعقاع کا یہ جواب سن کر یہ لوگ بظاہر منتشر ہو گئے مگر خفیہ طور پر منصوبہ کرتے رہے۔آخر یزید بن قیس نے جو اُس وقت کوفہ میں سبائیوں کا رئیس تھا ایک آدمی کو خط دے کر حمص کی طرف روانہ کیا اور کہا کہ ان لوگوں کو جو کوفہ سے جلا وطن کئے گئے تھے اور جن کا واقعہ پہلے بیان ہو چکا ہے وہ بلا لائے۔وہ خط لے کر ان لوگوں کے پاس گیا۔اس خط کا مضمون یہ تھا کہ اہلِ مصر ہمارے ساتھ مل گئے ہیں اور موقع بہت اچھا ہے یہ خط پہنچتے ہی ایک منٹ کی دیر نہ کرو اور واپس آ جاؤ۔کس قدر تعجب کی بات ہے کہ خلیفہ وقت سابق بالا یمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے داماد کے خلاف جوش ظاہر کرنے والے اور اس پر عیب لگانے والے وہ لوگ ہیں جو خود نمازوں کے تارک ہیں۔کیا ہو سکتا ہے کہ اسلام کے لئے غیرت صرف بے دینوں میں پیدا ہو؟ اگر واقعہ میں حضرت عثمان یا ان کے والیوں میں کوئی نقص ہوتا ، کوئی بات خلاف شریعت ہوتی ، کوئی کمزوری ہوتی تو اس کے خلاف جوش کا اظہار کرنے والے علی ، طلحہ، زبیر ، سعد بن الوقاص ، عبد اللہ بن عمر ، اسامہ بن زید ، عبد اللہ بن عباس ، ابوموسیٰ اشعری، حذیفہ بن الیمان، ابو ہریرہ ، عبداللہ بن سلام ، عبادہ بن صامت اور محمد بن مسلمہ رضوان اللہ علیہم ہوتے نہ کہ یزید بن قیس اور اشتر۔یہ خط لے کر نامہ بر جزیرہ پہنچا اور جلا وطنانِ اہلِ کوفہ کے سپر د کر دیا۔جب انہوں نے اس خط کو پڑھا تو سوائے اشتر کے سب نے نا پسند کیا۔کیونکہ وہ عبد الرحمن بن خالد کے ہاتھ دیکھ چکے تھے۔مگر اشتر جو مدینہ میں جا کر حضرت عثمان سے معافی مانگ کر آیا تھا اس کی تو بہ قائم نہ رہی اور اُسی وقت کوفہ کی طرف چل پڑا۔جب اس کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اشتر واپس چلا گیا تو وہ ڈرے کہ عبد الرحمن ہماری بات پر یقین نہ کریں گے اور سمجھیں گے کہ یہ سب کام ہمارے مشورہ سے ہوا ہے۔اس خوف سے وہ بھی نکل بھاگے جب عبد الرحمن بن خالد بن ولید کو معلوم ہوا تو انہوں نے پیچھے آدمی بھیجے مگر ان کے آدمی ان کو پکڑ نہ سکے۔مالک الاشتر منزلوں پر منزلیں مارتا ہوا کوفہ پہنچا۔خالی ہاتھ شہر میں گھسنا اُس نے اپنی عزت کے خلاف