خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 276

خلافة على منهاج النبوة آسان ہوگا۔جلد اول اس شخص نے جب یہ دیکھا کہ والیانِ صوبہ جات کی بُرائیاں جب کبھی بیان کی جاتی ہیں تو سمجھ دار لوگ ان کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنے مشاہدہ کی بناء پر ان شکایات کو جھوٹا اور بے حقیقت جانتے ہیں اور ملک میں عام جوش نہیں پھیلتا تو اس نے ایک اور خطر ناک تدبیر اختیار کی اور وہ یہ کہ اپنے نائبوں کو حکم دیا کہ بجائے اس کے کہ ہر جگہ کے گورنروں کو اُنہی کے علاقوں میں بدنام کرنے کی کوشش کریں اُن کی بُرائیاں لکھ کر دوسرے علاقوں میں بھیجیں۔کیونکہ دوسرے علاقوں کے لوگ اس جگہ کے حالات سے ناواقفیت کی وجہ سے ان کی باتوں کو آسانی سے قبول کر لیں گے۔چنانچہ اس مشورہ کے ماتحت ہر جگہ کے مفسد اپنے علاقوں کے حکام کی جھوٹی شکایات اور بناوٹی مظالم لکھ کر دوسرے علاقوں کے ہمدردوں کو بھیجتے اور وہ ان خطوں کو پڑھ کر لوگوں کو سناتے اور بوجہ غیر ممالک کے حالات سے ناواقفیت کے بہت سے لوگ ان باتوں کو سچ یقین کر لیتے اور افسوس کرتے کہ فلاں فلاں ملک کے ہمارے بھائی سخت مصیبتوں میں مبتلاء ہیں اور ساتھ شکر بھی کرتے کہ خدا کے فضل سے ہمارا والی اچھا ہے ہمیں کوئی تکلیف نہیں۔اور یہ نہ جانتے کہ دوسرے ممالک کے لوگ اپنے آپ کو آرام میں اور ان کو دکھ میں سمجھتے اور اپنی حالت پر شکر اور ان کی حالت پر افسوس کرتے ہیں۔مدینہ کے لوگوں کو چونکہ چاروں اطراف سے خطوط آتے تھے ان میں سے جو لوگ ان خطوط کو صحیح تسلیم کر لیتے وہ یہ خیال کر لیتے کہ شاید سب ممالک میں ظلم ہی ہو رہا ہے اور مسلمانوں پر سخت مصائب ٹوٹ رہے ہیں۔غرض عبد اللہ بن سبا کا یہ فریب بہت کچھ کارگر ثابت ہوا اور اسے اس ذریعہ سے ہزاروں ایسے ہمدرد مل گئے جو بغیر اس تدبیر کے ملنے مشکل تھے۔جب یہ شورش حد سے بڑھنے لگی اور صحابہ کرام کو بھی ایسے خطوط ملنے لگے جن میں گورنروں کی شکایات درج ہوتی تھیں تو انہوں نے مل کر حضرت عثمان سے عرض کیا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ باہر کیا ہورہا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جو رپورٹیں مجھے آتی ہیں وہ تو خیر و عافیت ہی ظاہر کرتی ہیں۔صحابہ نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اس اس مضمون کے۔