خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 275
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۵ جلد اول دریافت کیا کہ وہ کہاں رہنا چاہتے ہیں؟ مالک نے کہا کہ اب ہم عبدالرحمن بن خالد کے پاس رہنا چاہتے ہیں۔حضرت عثمانؓ نے اجازت دی اور وہ شخص واپس عبدالرحمن بن خالد کے پاس چلا گیا۔اس شخص کے عبد الرحمن بن خالد کے پاس ہی رہنے کی خواہش سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اس کا دل ضرور صاف ہو چکا تھا۔کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ایسے آدمی کے پاس جو شرارت کو ایک منٹ کے لئے روا نہ رکھتا تھا واپس جانے کی خواہش نہ کرتا۔مگر بعد کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی تو بہ بالکل عارضی تھی اور حضرت معاویہ کا یہ خیال درست تھا کہ یہ بے وقوف لوگ ہیں اور صرف ہتھیار بن کر کا م کر سکتے ہیں۔عبد اللہ بن سبا اس عرصہ میں خاموش نہ بیٹھا ہوا تھا بلکہ اس نے کچھ مدت سے یہ رویہ اختیار کیا تھا کہ اپنے ایجنٹوں کو تمام علاقوں میں بھیجتا اور اپنے خیالات پھیلاتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شخص غیر معمولی عقل و دانش کا آدمی تھا۔وہ احکام جو اس نے اپنے ایجنٹوں کو دیئے اس کے دماغ کی بناوٹ پر خوب روشنی ڈالتے ہیں۔جب یہ اپنے نائب روانہ کرتا تو ان کو ہدایت دیتا کہ اپنے خیالات فورا لوگوں کے سامنے نہ پیش کر دیا کرو بلکہ پہلے وعظ ونصیحت سے کام لیا کرو اور شریعت کے احکام لوگوں کو سنایا کرو اور اچھی باتوں کا حکم دیا کرو اور بُری باتوں سے روکا کرو۔جب لوگ تمہارا یہ طریق دیکھیں گے تو ان کے دل تمہاری طرف مائل ہو جائیں گے اور تمہاری باتوں کو شوق سے سنا کریں گے اور تم پر اعتبار پیدا ہو جائیگا۔تب عمدگی سے ان۔سے ان کے سامنے اپنے خاص خیالات پیش کرو وہ بہت جلد قبول کر لیں گے۔اور یہ بھی احتیاط رکھو کہ پہلے حضرت عثمان کے خلاف باتیں نہ کرنا بلکہ ان کے نائبوں کے خلاف لوگوں کے جوش کو بھڑکانا۔اس سے اس کی غرض یہ تھی کہ حضرت عثمان سے خاص مذہبی تعلق ہونے کی وجہ سے لوگ ان کے خلاف باتیں سن کر بھڑک اُٹھیں گے لیکن امراء کے خلاف باتیں سننے سے ان کے مذہبی احساسات کو تحریک نہ ہو گی اس لئے ان کو قبول کر لیں گے۔جب اس طرح ان کے دل سیاہ ہو جائیں گے اور ایک خاص پارٹی میں شمولیت کر لینے سے جو ضد پیدا ہو جاتی ہے وہ پیدا ہو جاوے گی تو پھر حضرت عثمان کے خلاف ان کو بھڑ کا نا بھی