خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 273
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۳ جلد اول ذمہ داری کا ہے جو اسلام نے ان پر ڈالی ہے۔قریش بے شک تھوڑے ہیں مگر جب خدا تعالیٰ نے دین کے ساتھ ان کو عزت دی ہے اور ہمیشہ سے مکہ مکرمہ کے تعلق کے باعث ان کی حفاظت کرتا چلا آیا ہے تو خدا کے فضل کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔جب وہ کافر تھے تو اس ادنی تعلق کے باعث اُس نے ان کی حفاظت کی۔اب وہ مسلمان ہو کر اس کے دین کے قائم کرنے والے ہو گئے ہیں تو کیا خدا تعالیٰ ان کو ضائع کر دیگا ؟ یا درکھو تم لوگ اسلام کے غلبہ کو دیکھ کر ایک رو میں مسلمان ہو گئے تھے اب شیطان تم کو اپنا ہتھیار بنا کر اسلام کو تباہ کرنے کیلئے تم سے کام لے رہا ہے اور دین میں رخنہ ڈالنا چاہتا ہے مگر تم لوگ جو فتنہ کھڑا کرو گے اس سے بڑے فتنہ میں اللہ تعالیٰ تم کو ڈالے گا۔میرے نزدیک تم ہرگز قابل التفات لوگ نہیں ہو جن لوگوں نے خلیفہ کو تمہاری نسبت لکھا انہوں نے غلطی کی۔نہ تم سے کسی نفع کی امید کی جاسکتی ہے نہ نقصان کی۔ان لوگوں نے حضرت معاویہ کی تمام نصائح سن کر کہا کہ ہم تم کو حکم دیتے ہیں کہ تم اپنے عہدہ سے علیحدہ ہو جاؤ۔حضرت معاویہؓ نے جواب دیا کہ اگر خلیفہ اور ائمۃ المسلمین کہیں تو میں آج الگ ہو جاتا ہوں تم لوگ ان معاملات میں دخل دینے والے کون ہو۔میں تم لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس طریق کو چھوڑ دو اور نیکی اختیار کرو اللہ تعالیٰ اپنے کام آپ کرتا ہے۔اگر تمہاری رائے پر کام چلتے تو اسلام کا کام تباہ ہو جاتا۔تم لوگ دراصل دین اسلام سے بیزار ہو۔تمہارے دلوں میں اور ہے اور زبانوں پر اور۔مگر اللہ تعالیٰ تمہارے ارادوں اور مخفی منصوبوں کو ایک دن ظاہر کر کے چھوڑے گا۔غرض دیر تک حضرت معاویہؓ ان کو سمجھاتے رہے اور یہ لوگ اپنی بیہودگی میں بڑھتے گئے۔حتی کہ آخر لا جواب ہو کر حضرت معاویہ پر حملہ کر دیا اور اُن کو مارنا چاہا۔حضرت معاویہ نے اُن کو ڈانٹا اور کہا کہ یہ کوفہ نہیں شام ہے۔اگر شام کے لوگوں کو معلوم ہوا تو جس طرح سعید کے کہنے سے کوفہ کے لوگ چپ کر رہے تھے یہ خاموش نہ رہیں گے بلکہ عوام الناس جوش میں میرے قول کی بھی پرواہ نہیں کریں گے اور تمہاری تکہ بوٹی کر دیں گے۔یہ کہہ کر حضرت معاویہ مجلس سے اُٹھ گئے اور ان لوگوں کو شام سے واپس کو نہ بھیج دیا۔اور حضرت عثمان کو لکھ دیا کہ یہ لوگ بوجہ اپنی حماقت اور جہالت کے قابل التفات ہی نہیں ہیں ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرنی