خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 272
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۲ جلد اوّل اس کا چنداں فائدہ نہ ہو سکتا تھا۔اگر ابن عامر والی بصرہ ابن السوداء کے متعلق بھی حضرت عثمان سے مشورہ طلب کرتا اور اس کے لئے بھی اسی قسم کا حکم جاری کیا جاتا تو شاید آئندہ حالات ان حالات سے بالکل مختلف ہوتے۔مگر مسلمانوں کی حالت اُس وقت اس بات کی مقتضی تھی کہ ایسی ہی قضاء وقد ر جاری ہواور وہی ہوا۔یہ لوگ جو جلا وطن کئے گئے اور جن کو ابن سبا کی مجلس کا رکن کہنا چاہئے تعداد میں دس کے قریب تھے (گوان کی صحیح تعداد میں اختلاف ہے ) حضرت معاویہؓ نے ان کی اصلاح کے لئے پہلے تو یہ تدبیر کی کہ ان سے بہت اعزاز و احترام سے پیش آئے۔خود ان کے ساتھ کھانا کھاتے اور اکثر فرصت کے وقت ان کے پاس جا کر بیٹھتے۔چند دن کے بعد انہوں نے ان کو نصیحت کی اور کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تم لوگوں کو قریش سے نفرت ہے ایسا نہیں چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے عرب کو قریش کے ذریعہ سے ہی عزت دی ہے۔تمہارے حکام تمہارے لئے ایک ڈھال کے طور پر ہیں۔پس ڈھالوں سے جُدا نہ ہو وہ تمہارے لئے تکالیف برداشت کرتے اور تمہاری فکر رکھتے ہیں۔اگر اس امر کی قدر نہ کرو گے تو خدا تعالیٰ تم پر ایسے حکام مقرر کر دے گا جو تم پر خوب ظلم کریں گے اور تمہارے صبر کی قدر نہ کریں گے اور تم اس دنیا میں عذاب میں مبتلاء ہو گے اور اگلے جہاں میں بھی ان ظالم بادشاہوں کے ظلم کی سزا میں شریک ہو گے کیونکہ تم ہی ان کے قیام کے باعث بنو گے۔حضرت معاویہ کی اِس نصیحت کوسن کر ان میں سے ایک نے جواب دیا کہ قریش کا ذکر چھوڑو، نہ وہ پہلے تعداد میں ہم سے زیادہ تھے نہ اب ہیں اور جس ڈھال کا تم نے ذکر کیا ہے وہ چھنی تو ہم کو ہی ملے گی۔حضرت معاویہؓ نے فرمایا کہ معلوم ہوا تم لوگ بے وقوف بھی ہو۔میں تم کو اسلام کی باتیں سناتا ہوں تم جاہلیت کا زمانہ یاد دلاتے ہو۔سوال قریش کی قلت و کثرت کا نہیں بلکہ اُس حضرت معاویہ کے کلام اور ان لوگوں کے جواب سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عثمان یا ان کے مقرر کردہ حکام سے ان لوگوں کو مخالفت نہ تھی بلکہ قریش سے ہی یا دوسرے لفظوں میں ایمان میں سابق لوگوں سے ہی ان کو حسد تھا۔اگر حضرت عثمان کی جگہ کوئی اور صحابی خلیفہ ہوتا اور انکے مقرر کردہ والیوں کی جگہ کوئی اور والی ہوتے تو ان سے بھی یہ لوگ اسی طرح حسد کرتے کیونکہ ان کا مدعا صرف حصولِ جاہ تھا۔