خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 271

خلافة على منهاج النبوة ۲۷۱ جلد اوّل گھروں میں لوٹ گئے اور ان لوگوں نے پھر وہی بے تکلفی شروع کی۔مگر جب سعید کو یقین ہو گیا کہ اب ان لوگوں کے لئے کوئی خطرہ کی بات نہیں ان کو رخصت کر دیا اور جن لوگوں کو پیٹا گیا تھا ان سے کہہ دیا کہ چونکہ میں ان لوگوں کو پناہ دے چکا ہوں ان کے قصور کا اعلان نہ کرو اس میں میری سبکی ہوگی۔ہاں یہ تسلی رکھو کہ آئندہ یہ لوگ میری مجلس میں نہ آسکیں گے۔ان مفسدوں کی اصل غرض تو پوری ہو چکی تھی یعنی نظیم اسلامی میں فساد پیدا کرنا۔اب انہوں نے گھروں میں بیٹھ کر عَلَى الإعلان حضرت عثمان اور سعید کی بُرائیاں بیان کرنی شروع کر دیں۔لوگوں کو ان کا یہ رویہ بہت بُرا معلوم ہوا اور انہوں نے سعید سے شکایت کی کہ یہ اس طرح شرارت کرتے ہیں اور حضرت عثمان کی اور آپ کی بُرائیاں بیان کرتے ہیں اور اُمت اسلامیہ کے اتحاد کو توڑنا چاہتے ہیں۔ہم یہ بات برداشت نہیں کر سکتے آپ اس کا انتظام کریں۔انہوں نے کہا کہ آپ لوگ خود تمام واقعات سے حضرت عثمان کو اطلاع دیں۔آپ کے حکم کے ماتحت انتظام کیا جاوے گا۔تمام شرفاء نے حضرت عثمان کو واقعات سے اطلاع دی اور آپ نے سعید کو حکم دیا کہ اگر رؤسائے کوفہ اس امر پر متفق ہوں تو ان لوگوں کو شام کی طرف جلا وطن کردو اور امیر معاویہؓ کے پاس بھیج دو۔ادھر امیر معاویہ کولکھا کہ کچھ لوگ جو کھلے طور پر فساد پر آمادہ ہیں وہ آپ کے پاس کو فہ سے آویں گے ان کے گزارہ کا انتظام کر دیں اور ان کی اصلاح کی تجویز کریں۔اگر درست ہو جاویں اور اصلاح کرلیں تو ان کے ساتھ نرمی کرو اور ان کے پچھلے قصوروں سے درگزر کرو اور اگر شرارت پر مصر رہیں تو پھر ان کو شرارت کی سزا دو۔حضرت عثمان کا یہ حکم نہایت دانائی پر مبنی تھا کیونکہ ان لوگوں کا کوفہ میں رہنا ایک طرف تو ان لوگوں کے جوشوں کو بھڑکانے والا تھا جو ان کی شرارتوں پر پوری طرح آگاہ تھے اور خطرہ تھا کہ وہ جوش میں آکر ان کو تکلیف نہ پہنچا بیٹھیں اور دوسری طرف اس لحاظ سے بھی مضر تھا کہ وہ لوگ وہاں کے باشندے اور ایک حد تک صاحب رسوخ تھے اگر وہاں رہتے تو اور بہت سے لوگوں کو خراب کرنے کا موجب ہوتے مگر یہ حکم اُس وقت جاری ہوا جب جہاں جلا وطن کر کے یہ لوگ بھیجے گئے تھے وہاں کے لوگوں کو خراب کرنے کا ان کو موقع نہ تھا کیونکہ وہاں خاص نگرانی اور نظر بندی کی حالت میں ان کو رکھا جاتا تھا۔