خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 270
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۰ جلد اول آپ کی مخالفت میں حصہ لیا جس کی وجوہ میں ابھی بیان کروں گا۔چوتھے سال میں اس فتنہ نے کسی قدر ہیبت ناک صورت اختیار کر لی اور اس کے بانیوں نے مناسب سمجھا کہ اب عَلَى الْلاعلان اپنے خیالات کا اظہار کیا جاوے اور حکومت کے رُعب کو مٹایا جاوے چنانچہ اس امر میں بھی کوفہ ہی نے ابتدا کی۔جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں ولید بن عتبہ کے بعد سعید بن العاص والی کوفہ مقرر ہوئے تھے۔انہوں نے شروع سے یہ طریق اختیار کر رکھا تھا کہ صرف شرفائے شہر کو اپنے پاس آنے دیتے تھے مگر کبھی کبھی وہ ایسا بھی کرتے کہ عام مجلس کرتے اور ہر طبقہ کے آدمیوں کو اس وقت پاس آنے کی اجازت ہوتی۔ایک دن اسی قسم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت طلحہ کی سخاوت کا ذکر آیا اور کسی نے کہا کہ وہ بہت ہی سخاوت سے کام لیتے ہیں۔اس پر سعید کے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا کہ ان کے پاس مال بہت ہے وہ سخاوت کرتے ہیں ہمارے پاس بھی مال ہوتا تو ہم بھی ویسی ہی داد و دہش سے کرتے۔ایک نو جوان نادانی سے بول پڑا کہ کاش فلاں جا گیر جو اموال شاہی میں سے تھی اور عام مسلمانوں کے فائدہ کے لئے رکھی گئی تھی آپ کے قبضہ میں ہوتی۔اس پر فتنہ انگیز جماعت کے بعض آدمی جو اس انتظار میں تھے کہ کوئی موقع نکلے تو ہم اپنے خیالات کا اظہار کریں غصہ کا اظہار کرنے لگے اور ظاہر کرنے لگے کہ یہ بات اس شخص نے سعید والی کوفہ کے اشارہ سے کہی ہے اور اس لئے کہی ہے تا کہ ان اموال کو ہضم کرنے کیلئے راستہ تیار کیا جاوے اور اُٹھ کر اُس شخص کو سعید کے سامنے ہی مارنا شروع کر دیا۔اُس کا باپ مدد کے لئے اُٹھا تو اُسے بھی خوب پیٹا سعید اُن کو روکتے رہے مگر انہوں نے ان کی بھی نہ سنی اور مار مار کر دونوں کو بے ہوش کر دیا۔یہ خبر جب لوگوں کو معلوم ہوئی کہ سعید کے سامنے بعض لوگوں نے ایسی شرارت کی ہے تو لوگ ہتھیار بند ہو کر مکان پر جمع ہو گئے مگر ان لوگوں نے سعید کی منت و سماجت کی اور ان سے معافی مانگی اور پناہ کے طلب گار ہوئے۔ایک عرب کی فیاضی اور پھر وہ بھی قریش کی ایسے موقع پر کب برداشت کر سکتی تھی کہ دشمن پناہ مانگے اور وہ اس سے انکار کر دے۔سعید نے باہر نکل کر لوگوں سے کہہ دیا کہ کچھ لوگ آپس میں لڑ پڑے تھے معاملہ کچھ نہیں اب سب خیر ہے۔لوگ تو اپنے