خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 269
خلافة على منهاج النبوة ۲۶۹ جلد اوّل خدا جس نے قرآن کریم تجھ پر فرض کیا ہے تجھے ضرور لوٹنے کی جگہ کی طرف واپس لاوے گا اس کی اس تعلیم کو اس کے بہت سے ماننے والوں نے قبول کیا اور آنحضرت علی کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کے قائل ہو گئے حالانکہ قرآن کریم ان لوگوں کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے سے جو فوت ہو چکے ہیں بڑے زور سے انکار کرتا ہے۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے نام کو روشن کرنے کے لئے کسی شخص کو انہی کے اخلاق اور صفات دے کر کھڑا کر دے مگر یہ امر تناسخ یا کسی شخص کے دوبارہ واپس آنے کے عقیدہ سے بالکل الگ ہے اور ایک بدیہی اور مشہور امر ہے۔علاوہ اس رجعت کے عقیدہ کے عبداللہ بن سبا نے یہ بھی مشہور کرنا شروع کیا کہ ہزار نبی گزرے ہیں اور ہر ایک نبی کا ایک وصی تھا اور رسول کریم ﷺ کے وصی حضرت علی ہیں۔رسول کریم ﷺ خاتم الانبیاء تھے تو حضرت علی خاتم الاوصیاء ہیں۔پھر کہتا اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو رسول کریم ﷺ کے وصی پر حملہ کر کے اس کا حق چھین لے۔19 غرض علاوہ سیاسی تدابیر کے جو اسلام میں تفرقہ ڈالنے کے لئے اس شخص نے اختیار کر رکھی تھیں مذہبی فتنہ بھی برپا کر رکھا تھا اور مسلمانوں کے عقائد خراب کرنے کی بھی فکر کر رہا تھا مگر یہ احتیاط ضرور برتا تھا کہ لوگ اس کو مسلمان ہی سمجھیں۔ایسی حالت میں تین سال گزر گئے اور یہ مفسد گروہ برا بر خفیہ کارروائیاں کرتا رہا اور اپنی جماعت بڑھاتا گیا۔لیکن اس تین سال کے عرصہ میں کوئی خاص واقعہ سوائے اس کے نہیں ہوا کہ محمد بن ابی بکر اور محمد بن ابی حذیفہ دو شخص مدینہ منورہ کے باشندے بھی اس فتنہ میں کسی قدر حصہ لینے لگے۔محمد بن ابی بکر تو حضرت ابوبکر کا چھوٹا لڑکا تھا جسے سوائے اس خصوصیت کے کہ وہ حضرت ابوبکر کا لڑکا تھا دینی طور پر کوئی فضیلت حاصل نہ تھی اور محمد بن ابی حذیفہ ایک یتیم تھا جسے حضرت عثمان نے پالا تھا مگر بڑا ہو کر اس نے خاص طور پر یہ پیشگوئی فتح مکہ کی ہے جسے بگاڑ کر اس شخص نے رجعت کا عقیدہ بنالیا۔چونکہ مکہ کی طرف لوگ بہ نیت حج اور حصول ثواب بار بار جاتے ہیں اس لئے اس کا نام بھی معاد ہے یعنی وہ جگہ جس کی طرف لوگ بار بار لوٹتے ہیں۔