خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 268
خلافة على منهاج النبوة ۲۶۸ جلد اول شہادت کو زیادہ وقیع بنانے کیلئے ساتھ گئے تھے وہ بھی اس واقعہ کی تصدیق بالقرائن کرتے تھے۔صحابہ سے مشورہ لیا گیا اور ولید کو حد شراب لگانے کا فیصلہ ہوا۔کوفہ سے ان کو بلوایا گیا اور مدینہ میں شراب پینے کی سزا میں کوڑے لگوائے گئے۔ولید نے گو عذر کیا اور ان کی شرارت پر حضرت عثمان کو آگاہ کیا مگر انہوں نے کہا کہ محکم شریعت گواہوں کے بیان کے مطابق سزا تو ملے گی۔ہاں جھوٹی گواہی دینے والا خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا پائے گا۔ولید معزول کئے گئے اور ناحق ان پر الزام لگایا گیا مگر صحابہ کے مشورہ کے ماتحت حضرت عثمان نے اُن کو حد لگائی اور چونکہ گواہ اور قرائن ان کے خلاف موجود تھے شریعت کے حکم کے ماتحت ان کو حد لگانا ضروری تھا۔سعید بن العاص ان کی جگہ والی کوفہ بنا کر بھیج دیئے گئے۔انہوں نے کوفہ میں جا کر وہاں کی حالت دیکھی تو حیران ہو گئے۔تمام او باش اور دین سے ناواقف لوگ قبضہ جمائے ہوئے تھے اور شرفاء محکوم ومغلوب تھے۔انہوں نے اس واقعہ کی حضرت عثمان کو خبر دی جنہوں نے اُن کو نصیحت کی کہ جو لوگ بڑی بڑی قربانیاں کر کے دشمنوں کے مقابلہ کیلئے پہلے پہلے آتے تھے ان کا اعزاز و احترام قائم کریں ہاں اگر وہ لوگ دین سے بے تو جہی برتیں تب بے شک دوسرے ایسے لوگوں کو ان کی جگہ د دیں جو زیادہ دین دار ہوں۔جس وقت کو فہ میں شرارت جاری تھی بصرہ بھی خاموش تھا وہاں بھی حکیم بن جبلہ ابن السوداء کے ایجنٹ اور اس کے ساتھیوں کے ذریعہ حضرت عثمان کے نائبوں کے خلاف لوگوں میں جھوٹی تہمتیں مشہور کی جا رہی تھیں۔مصر جو اصل مرکز تھا وہاں تو اور بھی زیادہ فساد برپا تھا عبداللہ بن سبا نے وہاں صرف سیاسی شورش ہی بر پا نہ کر رکھی تھی بلکہ لوگوں کا مذہب بھی خراب کر رہا تھا۔مگر اس طرح کہ دین سے ناواقف مسلمان اسے بڑا مخلص سمجھیں۔چنانچہ وہ تعلیم دیتا تھا کہ تعجب ہے کہ بعض مسلمان یہ تو عقیدہ رکھتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے مگر یہ نہیں صل الله مانتے کہ رسول کریم ہے دوبارہ مبعوث ہوں گے حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيكَ القُرانَ تَرَادُكَ إلى مَعَادٍ يعنى۔وہ