خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 258
خلافة على منهاج النبوة ۲۵۸ جلد اول جاہل لوگ۔حمران ابن ابان ایک شخص تھا جس نے ایک عورت سے اس کی عدت کے دوران میں ہی نکاح کرلیا۔جب حضرت عثمان کو اس کا علم ہوا تو آپ اس پر ناراض ہوئے اور اس عورت کو اس سے جُدا کر دیا اور اس کے علاوہ اس کو مدینہ سے جلا وطن کر کے بصرہ بھیج دیا۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح بعض لوگ صرف اسلام کو قبول کر کے اپنے آپ کو عالم اسلام خیال کرنے لگے تھے اور زیادہ تحقیق کی ضرورت نہ سمجھتے تھے۔یا یہ کہ مختلف اباحتی خیالات کے ماتحت شریعت پر عمل کرنا ایک فعلِ عبث خیال کرتے تھے۔یہ ایک منفرد واقعہ ہے اور غالبا اس شخص کے سوا مد ینہ میں جو مرکز اسلام تھا کوئی ایسا ناواقف آدمی نہ تھا۔مگر دوسرے شہروں میں بعض لوگ معاصی میں ترقی کر رہے تھے۔چنانچہ کوفہ کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں نو جوانوں کی ایک جماعت ڈاکہ زنی کے لئے بن گئی تھی۔لکھا ہے کہ ان لوگوں نے ایک دفعہ علی بن حیسمان الخزاعی نامی ایک شخص کے گھر پر ڈا کہ مارنے کی تجویز کی اور رات کے وقت اُس کے گھر میں نقب لگائی۔اُس کو علم ہو گیا اور وہ تلوار لے کر نکل پڑا۔مگر جب بہت سی جماعت دیکھی تو اس نے شور مچایا۔اس پر ان لوگوں نے اس کو کہا کہ چُپ کر ہم ایک ضرب مارکر تیرا سارا ڈر نکال دیں گے اور اس کو قتل کر دیا۔اتنے میں ہمسائے ہوشیار ہو گئے اور اردگرد جمع ہو گئے اور اُن ڈاکوؤں کو پکڑ لیا۔حضرت ابو شریح نے جو صحابی تھے اور اس شخص کے ہمسایہ تھے اور انہوں نے سب حال اپنی دیوار پر سے دیکھا تھا انہوں نے شہادت دی کہ واقعہ میں انہی لوگوں نے علی کو قتل کیا ہے اور اسی طرح ان کے بیٹے نے شہادت دی اور معاملہ حضرت عثمان کی طرف لکھ کر بھیج دیا۔انہوں نے ان سب کو قتل کرنے کا فتویٰ دیا اور ولید بن عتبہ نے جو اُن دنوں حضرت عثمان کی طرف سے کوفہ کے گورنر تھے ان سب ڈاکوؤں کو درواز ہ شہر کے باہر میدان میں قتل کروا دیا۔بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ معلوم ہوتا ہے لیکن اُس زمانے کے حالات کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ معمولی واقعہ نہ تھا۔اسلام کی ترقی کے ساتھ ساتھ جرائم کا سلسلہ بالکل مٹ گیا تھا اور لوگ ایسے امن میں تھے کہ کھلے دروازوں سوتے ہوئے بھی خوف نہ کھاتے تھے۔حتی کہ -