خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 254

خلافة على منهاج النبوة ۲۵۴ جلد اول نے اپنے لئے یہ شاندار مستقبل مقر ر کیا ہے کہ هُوَ الذي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَة عَلَى الدِّین کلہ کے یعنی وہ خدا ہی ہے کہ جس نے اپنا رسول سچے دین کے ساتھ بھیجا تا کہ اس دین کو باوجود اس کے منکروں کی ناپسندیدگی کے تمام ادیان باطلہ پر غالب کرے۔فتنہ حضرت عثمان کے وقت میں کیوں اُٹھا ؟ میں نے ان تاریخی واقعات سے جو حضرت عثمان کے آخری ایامِ خلافت میں ہوئے نتیجہ نکال کر اصل بواعث فتنہ بیان کر دیئے ہیں۔وہ درست ہیں یا غلط اس کا اندازہ آپ لوگوں کو ان واقعات کے معلوم کرنے پر جن سے میں نے یہ نتیجہ نکالا ہے خود ہو جائے گا۔مگر پیشتر اس کے کہ میں وہ واقعات بیان کروں اس سوال کے متعلق بھی کچھ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ فتنہ حضرت عثمان کے وقت میں کیوں اُٹھا؟ بات یہ ہے کہ حضرت عمر کے زمانہ میں لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوئے۔ان نومسلموں میں اکثر حصہ وہی تھا جو عربی زبان سے ناواقف تھا اور اس وجہ سے دین اسلام کا سیکھنا اس کے لئے ولیسا آسان نہ تھا جیسا کہ عربوں کے لئے اور جو لوگ عربی جانتے بھی تھے وہ ایرانیوں اور شامیوں سے میل ملاپ کی وجہ سے صدیوں سے ان گندے خیالات کا شکار رہے تھے جو اُس وقت کے تمدن کا لازمی نتیجہ تھے۔علاوہ ازیں ایرانیوں اور مسیحیوں سے جنگوں کی وجہ سے اکثر صحابہ اوران کے شاگردوں کی تمام طاقتیں دشمن کے حملوں کے رڈ کرنے میں صرف ہورہی تھیں۔پس ایک طرف توجہ کا بیرونی دشمنوں کی طرف مشغول ہونا دوسری طرف اکثر نومسلموں کا عربی سے ناواقف ہونا یا عجمی خیالات سے متاثر ہونا دو عظیم الشان سبب تھے اس امر کے کہ اُس وقت کے اکثر نو مسلم دین سے کما حقہ واقف نہ ہو سکے۔حضرت عمر کے وقت میں چونکہ جنگوں کا سلسلہ بہت بڑے پیمانے پر جاری تھا اور ہر وقت دشمن کا خطرہ لگا رہتا تھا لوگوں کو دوسری باتوں کے سوچنے کا موقع ہی نہ ملتا تھا۔اور پھر دشمن کے بالمقابل پڑے ہوئے ہونے کا باعث طبعاً مذہبی جوش بار بار رونما ہوتا تھا جو مذہبی تعلیم کی کمزوری پر پردہ ڈالے رکھتا تھا۔حضرت عثمان کے ابتدائی عہد میں بھی یہی حال رہا۔کچھ جنگیں بھی ہوتی رہیں