خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 250

خلافة على منهاج النبوة ۲۵۰ جلد اول ان میں سے ایک حصہ موجودہ جنگوں میں بھی حصہ لیتا تھا اور اس خدمت کے صلہ میں بھی وہ ویسے ہی بدلہ کا مستحق ہوتا جیسے کہ اور لوگ۔مگر یہ بات بھی یا درکھنی چاہئے کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہؓ ان اموال کو جمع کرنے یا ان کو اپنے نفسوں پر خرچ کرنے کے عادی نہ تھے بلکہ وہ اپنا حصہ صرف خدا اور رسول کے کلام کو سچا کرنے کیلئے لیتے تھے ورنہ ان میں سے ہر ایک اپنی سخاوت اور اپنی عطا میں اپنی نظیر آپ تھا اور ان کے اموال صرف غرباء کی کفالت اور ان کی خبر گیری میں صرف ہوتے تھے۔غرض صحابہ کی نسبت جو بعض لوگوں صحابہ کی نسبت بدگمانی بلا وجہ ہے سرحد اور بدگمانی پیدا ہوئی تھی یا وجہ اور کو حسد بلا سبب تھی۔مگر بلا وجہ ہو یا با وجہ اس کا بیج بویا گیا تھا اور دین کی حقیقت سے ناواقف لوگوں میں سے ایک طبقہ ان کو غاصب کی حیثیت میں دیکھنے لگا تھا اور اس بات کا منتظر تھا کہ کب کوئی موقع ملے اور ان لوگوں کو ایک طرف کر کے ہم حکومت واموال حکومت پر تصرف کریں۔دوسری وجہ اس فساد کی یہ تھی کہ اسلام نے حریت فکر اور آزادی عمل اور مساواتِ افراد کے ایسے سامان پیدا کر دیئے تھے جو اس سے پہلے بڑے سے بڑے فلسفیانہ خیالات کے لوگوں کو بھی میسر نہ تھے۔اور جیسا کہ قاعدہ ہے کہ کچھ لوگ جو اپنے اندر مخفی طور پر بیماریوں کا مادہ رکھتے ہیں وہ اعلیٰ سے اعلیٰ غذا سے بھی بجائے فائدہ کے نقصان اُٹھاتے ہیں اس حریت فکر اور آزادی عمل کے اصول سے کچھ لوگوں نے بجائے فائدہ کے نقصان اُٹھایا اور اس کی حدود کو صلى الله قائم نہ رکھ سکے۔اس مرض کی ابتداء تو رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہی ہوئی جب کہ ایک نا پاک روح نام کے مسلم نے رسول کریم علی کے منہ پر آپ کی نسبت یہ الفاظ کہے کہ يَارَسُولَ اللہ ! تقویٰ اللہ سے کام لیں کیونکہ آپ نے تقسیم مال میں انصاف سے کام نہیں لیا۔جس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِعْضِنِي هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ رَطْبًا لَا يُجَاوِزُ حَنَا جِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الذِيْنِ كَمَا يَمُرُقُ السَّهُمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " یعنی اس شخص کی نسل سے ایک قوم نکلے گی جو قرآن کریم بہت پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلے سے نہیں اُترے گا اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جس طرح تیرا اپنے نشانہ سے نکل جاتا ہے۔