خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 249
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۹ جلد اول کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھوں پر رکھا تھا۔پس وہ جو کچھ کرتے تھے اپنی خواہش سے نہیں کرتے تھے بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اور اس کے رسول کی ہدایات کے مطابق کرتے تھے۔اور ان پر حسد کرنا یا بدگمانی کرنا ایک خطر ناک غلطی تھی۔باقی رہا یہ اعتراض کہ صحابہ کو خاص طور پر اموال کیوں دیے جاتے تھے یہ بھی ایک وسوسہ تھا کیونکہ صحابہ کو جو کچھ ملتا تھا ان کے حقوق کے مطابق ملتا تھا۔وہ دوسرے لوگوں کے حقوق دبا کر نہیں لیتے تھے بلکہ ہر ایک شخص خواہ وہ کل کا مسلمان ہوا پنا حق اسی طرح پاتا تھا جس طرح ایک سابق ہالا یمان۔ہاں صحابہ کا کام اور ان کی محنت اور قربانی دوسرے لوگوں سے بڑھی ہوئی تھی اور ان کی پرانی خدمات اس پر مستزاد تھیں۔پس وہ ظلما نہیں بلکہ انصافاً دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ حق دار تھے اس لئے دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ بدلہ پاتے تھے۔انہوں نے اپنے حصے خود نہ مقرر کئے تھے بلکہ خدا اور اس کے رسول نے ان کے حصے مقرر کئے تھے۔اگر ان لوگوں کے ساتھ خاص معاملہ نہ کیا جاتا تو وہ پیشگوئیاں کیونکر پوری ہوتیں جو قرآن کریم اور احادیث رسول کریم ﷺ میں ان لوگوں کی ترقی اور ان کے اقبال اور ان کی رفاہت اور ان کے غناء کی نسبت کی گئی تھیں۔اگر حضرت عمرؓ کسری کی حکومت کے زوال اور اس کے خزانوں کی فتح پر کسری کے کڑے سراقہ بن مالک کو نہ دیتے اور نہ پہناتے تو رسول کریم ﷺ کی وہ بات کیونکر پوری ہوتی کہ میں سراقہ کے ہاتھ میں کسری کے کڑے دیکھتا ہوں۔مگر میں یہ بھی کہوں گا کہ صحابہ کو جو کچھ ملتا تھا دوسروں کا حق مار کر نہ ملتا تھا بلکہ ہر ایک شخص جو ذرا بھی حکومت کا کام کرتا تھا اُس کو اُس کا حق دیا جاتا تھا اور خلفاء اس بارے میں نہایت محتاط تھے۔صحابہؓ کو صرف ان کا حق دیا جاتا تھا اور وہ ان کے کام اور ان کی سابقہ خدمات کے لحاظ سے بے شک دوسروں سے زیادہ ہوتا تھا۔اور پھر اسلامی تاریخ کے بعد کے واقعات سے یہ بات خوب اچھی طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ صحابہ کا دخل کیسا مفید و با برکت تھا کیونکہ کچھ عرصہ کے لئے صحابہ کے دخل کو ہٹا کر خدا تعالیٰ نے بتا دیا کہ ان کے علیحدہ ہونے سے کیسے بُرے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔اسلام کی تضحیک خود مسلمان کہلانے والوں کے ہاتھوں اس عرصہ میں اس طرح ہوئی کہ دل ان حالات کو پڑھ کر خوف کھاتے ہیں اور جسموں میں لرزہ آتا ہے۔( مرزا محمود احمد ) ย