خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 248
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۸ جلد اول ملتے ہیں اور اس کی زمام انتظام جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے ان کا فرض ہوتا ہے کہ امور دینیہ میں وہ لوگوں کو راستہ سے اِدھر اُدھر نہ ہونے دیں۔اور بجائے اس کے کہ وہ لوگوں کے خیالات کی ترجمانی کریں ان پر واجب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے خیالات کو اس سانچہ میں ڈھالیں جو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس زمانہ کی ضروریات کے مطابق تیار ہوا ہے۔غرض اسلام کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ خلافت اسلامیہ ایک مذہبی انتظام تھا سے یہ اعتراضات ان لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے تھے۔وہ نہ سوچتے تھے کہ خلافت اسلامیہ کوئی دنیاوی حکومت نہ تھی نہ صحابہ عام امرائے دولت۔بلکہ خلافت اسلامیہ ایک مذہبی انتظام تھا اور قرآن کریم کے خاص احکام مندرجہ سورۃ نور کے مطابق قائم کیا گیا تھا۔اور صحابہ وہ ارکانِ دین تھے کہ جن کی اتباع روحانی مدارج کے حصول کیلئے خدا تعالیٰ نے فرض کی تھی۔صحابہ نے اپنے کاروبار کو ترک کر کے ، ہر قسم کی مسکنت اور غربت کو اختیار کر کے ، اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر، اپنے عزیز واقرباء کی صحبت و محبت کو چھوڑ کر، اپنے وطنوں کو خیر باد کہہ کر، اپنے خیالات و جذبات کو قربان کر کے آنحضرت یہ کی صحبت و محبت کو اختیار کیا تھا اور بعض نے قریباً ایک چوتھائی صدی آپ کی شاگردی اختیار کر کے اسلام کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا اور اس پر عمل کر کے اس کا عملی پہلو مضبوط کیا تھا۔وہ جانتے تھے کہ اسلام سے کیا مطلب ہے، اس کی کیا غرض ہے ، اس کی کیا حقیقت ہے ، اس کی تعلیم پر کس طرح عمل کرنا چاہئے اور اس پر عمل کر کے کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔پس وہ کسی دنیا وی حکومت کے بادشاہ اور اس کے ارکان نہ تھے۔وہ سب سے آخری دین اور خاتم النبین کی لائی ہوئی شریعت کے معلم تھے اور ان پر فرض کیا گیا تھا کہ اپنے عمل سے ، اپنے قول سے ، اپنی حرکات سے ، اپنی سکنات سے اسلام کی ترجمانی کریں اور اس کی تعلیم لوگوں کے دلوں میں نقش کریں اور ان کے جوارح پر اس کو جاری کریں۔وہ استبداد کے حامی نہ تھے بلکہ شریعتِ غراء کے حامی تھے۔وہ دنیا سے متنفر تھے اور اگر ان کا بس ہوتا تو دنیا کو ترک کر کے گوشہ ہائے تنہائی میں جا بیٹھتے اور ذکر خدا سے اپنے دلوں کو راحت پہنچاتے۔مگر وہ اس ذمہ داری سے مجبور تھے جس کا بوجھ خدا اور اس