خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 247
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۷ جلد اول جاری کرتے اور نہ حضرت علی ایسے انسان تھے کہ خلافت کیلئے خفیہ منصو بے کرتے۔جہاں تک میں نے غور کیا اور مطالعہ کیا ہے اس فتنہ ہا ئلہ کی چار وجوہ ہیں۔اوّل : عموماً انسان کی طبیعت حصولِ جاہ و مال کی طرف مائل رہتی فتنے کی چار وجوہ ہے سوائے اُن لوگوں کے جن کے دلوں کو خدائے تعالیٰ نے خاص طور پر صاف کیا ہو۔صحابہ کی عزت ، ان کے مرتبہ اور ان کی ترقی اور حکومت کو دیکھ کر نومسلموں میں سے بعض لوگ جو کامل الایمان نہ تھے حسد کرنے لگے اور جیسا کہ قدیم سے سنت چلی آئی ہے اس بات کی امید کرنے لگے کہ یہ لوگ حکومت کے کاموں سے دستبردار ہو کر سب کام ہمارے ہاتھوں میں دے دیں اور کچھ اور لوگوں کو بھی اپنا جو ہر دکھانے کا موقع دیں۔ان لوگوں کو یہ بھی بُر ا معلوم ہوتا تھا کہ علاوہ اس کے کہ حکومت صحابہ کے قبضہ میں تھی اموال میں بھی ان کو خاص طور پر حصہ ملتا تھا۔پس یہ لوگ اندر ہی اندر جلتے رہتے تھے اور کسی ایسے تغیر کے منتظر تھے جس سے یہ انتظام درہم برہم ہو کر حکومت ان کے ہاتھوں میں آ جائے اور یہ بھی اپنے جو ہر لیاقت دکھاویں اور دنیا وی وجاہت اور اموال حاصل کریں۔دنیاوی حکومتوں میں ایسے خیالات ایک حد تک قابلِ معافی ہو سکتے ہیں بلکہ بعض اوقات معقول بھی کہلا سکتے ہیں کیونکہ اول دنیا وی حکومتوں کی بنیاد کلی طور پر ظاہری اسباب پر ہوتی ہے اور ظاہری اسباب ترقی میں سے ایک بہت بڑا سبب نئے خیالات اور نئی روح کا قالب حکومت میں داخل کرنا بھی ہے۔جو اسی صورت میں ممکن ہے کہ پہلے کام کرنے والے خود بخود کام سے علیحدگی اختیار کر کے دوسروں کیلئے جگہ چھوڑ دیں۔دوم : حکومت دنیا وی کو چونکہ نیابت عامہ کے طور پر اختیارات ملتے ہیں اس لئے عوام کی رائے کا احترام اس کیلئے ضروری ہے اور لازم ہے کہ وہ لوگ اس کے کاموں کے انصرام میں خاص دخل رکھتے ہوں جو عوام کے خیالات کے ترجمان ہوں۔مگر دینی سلسلہ میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے وہاں ایک مقررہ قانون کی پابندی سب اصول سے مقدم اصل ہوتا ہے اور اپنے خیالات کا دخل سوائے ایسی فروعات کے جن سے شریعت نے خود خاموشی اختیار کی ہو قطعاً ممنوع ہے۔دوم دینی سلسلوں کو اختیارات خدا تعالیٰ کی طرف سے