خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 246
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۶ جلد اول صلى الله کی نسبت رسول کریم ﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی ہے۔آپ کے مسندِ خلافت پر متمکن ہونے سے چھ سال تک حکومت میں کسی قسم کا کوئی فتنہ نہیں اُٹھا بلکہ لوگ آپ سے بالعموم بہت خوش تھے۔اس کے بعد یکدم ایک ایسا فتنہ پیدا ہوا جو بڑھتے بڑھتے اس قدر ترقی کر گیا کہ کسی کے رو کے نہ رُک سکا اور انجام کار اسلام کیلئے سخت مضر ثابت ہوا۔تیرہ سو برس گزر چکے ہیں مگر اب تک اس کا اثر اُمتِ اسلامیہ میں سے زائل نہیں ہوا۔اب سوال یہ ہے کہ یہ فتنہ کہاں سے پیدا ہوا؟ اس کا فتنہ کہاں سے پیدا ہوا ؟ باعث بعض لوگوں نے حضرت عثمان کو قرار دیا ہے اور بعض نے حضرت علیؓ کو۔بعض کہتے ہیں کہ حضرت عثمان نے بعض بدعتیں شروع کر دی تھیں جن سے مسلمانوں میں جوش پیدا ہو گیا۔اور بعض کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے خلافت کیلئے خفیہ کوشش شروع کر دی تھی اور حضرت عثمان کے خلاف مخالفت پیدا کر کے انہیں قتل کرا دیا تا کہ خود خلیفہ بن جائیں لیکن یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔نہ حضرت عثمان نے کوئی بدعت جاری کی اور نہ حضرت علیؓ نے خود خلیفہ بننے کیلئے انہیں قتل کرایا یا ان کے قتل کے منصوبہ میں شریک ہوئے بلکہ اس فتنہ کی اور ہی وجوہات تھیں۔حضرت عثمانؓ اور حضرت علی کا دامن اس قسم کے الزامات سے بالکل پاک ہے وہ نہایت مقدس انسان تھے۔حضرت عثمان تو وہ انسان تھے جن کے متعلق حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے اسلام کی اتنی خدمات کی ہیں کہ وہ اب جو چاہیں کریں خدا ان کو نہیں پوچھے گائے۔اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ خواہ وہ اسلام سے ہی برگشتہ ہو جائیں تو بھی مؤاخذہ نہیں ہوگا بلکہ یہ تھا کہ ان میں اتنی خوبیاں پیدا ہوگئی تھیں اور وہ نیکی میں اس قدر ترقی کر گئے تھے کہ یہ ممکن ہی نہ رہا تھا کہ ان کا کوئی فعل اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو۔پس حضرت عثمان ایسے انسان نہ تھے کہ وہ کوئی خلاف شریعت بات در حقیقت عشرہ مبشرہ ایک محاورہ ہو گیا ہے ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بہت زیادہ صحابہ کی نسبت جنت کی بشارت دی ہے۔عشرہ مبشرہ سے دراصل وہ دس مہاجر مراد ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس شوری کے رکن تھے اور جن پر آپ کو خاص اعتما دتھا۔