خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 245
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۵ جلد اول تو آنحضرت ﷺ نے تجویز فرمایا کہ کسی خاص معتبر شخص کو اہل مکہ کے پاس اس امر پر گفتگو کرنے کے لئے بھیجا جاوے اور حضرت عمرؓ کو اس کے لئے انتخاب کیا۔حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ يَارَسُولَ اللہ ! میں تو جانے کو تیار ہوں مگر مکہ میں اگر کوئی شخص ان سے گفتگو کر سکتا ہے تو وہ حضرت عثمان ہے کیونکہ وہ ان لوگوں کی نظر میں خاص عزت رکھتا ہے پس اگر کوئی دوسرا شخص گیا تو اس پر کامیابی کی اتنی امید نہیں ہوسکتی جتنی کہ حضرت عثمان پر ہے اور آپ کی اس بات کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی درست تصور کیا اور انہی کو اس کام کے لئے بھیجا۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کفار میں بھی خاص عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔حضرت عثمان کا مرتبہ رسول رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا بہت احترام صلى الله فرماتے تھے ایک دفعہ آپ لیٹے ہوئے تھے کہ کریم ﷺ کی نظر میں حضرت ابو بکر تشریف لائے اور آپ اسی طرح لیٹے رہے۔پھر حضرت عمرؓ تشریف لائے تب بھی آپ اسی طرح لیٹے رہے۔پھر حضرت عثمان تشریف لائے تو آپ نے جھٹ اپنے کپڑے سمیٹ کر درست کر لئے اور فرمایا کہ حضرت عثمان کی طبیعت میں حیا بہت ہے اس لئے میں اس کے احساسات کا خیال کر کے ایسا کرتا ہوں۔آپ ان شاذ آدمیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اسلام کے قبول کرنے سے پہلے بھی کبھی شراب کو منہ نہیں لگایا اور زنا کے نزدیک نہیں گئے اور یہ ایسی خوبیاں ہیں جو عرب کے ملک میں جہاں شراب کا پینا فخر اور زنا ایک روز مرہ کا شغل سمجھا جاتا تھا اسلام سے پہلے چند گنتی کے آدمیوں سے زیادہ لوگوں میں نہیں پائی جاتی تھیں۔غرض آپ کوئی معمولی آدمی نہ تھے۔نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق آپ میں پائے جاتے تھے۔دنیا وی وجاہت کے لحاظ سے آپ نہایت ممتاز تھے۔اسلام میں سبقت رکھتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر نہایت خوش تھے۔اور حضرت عمر نے آپ کو ان چھ آدمیوں میں سے ایک قرار دیا ہے جو حضرت رسول کریم علیہ کی وفات کے وقت تک آپ کی اعلیٰ درجہ کی خوشنودی کو حاصل کئے رہے۔اور پھر آپ عشرہ مبشرہ سے ایک فرد ہیں یعنی ان دس آدمیوں میں سے ایک ہیں جن